معراج کا سفر |
|
المقدس لے جایا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا وہ ایسا کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا ہاں، تو فرمایا اگر وہ کہتے ہیں تو ٹھیک کہتے ہیں۔ لوگ کہنے لگے، کیا تم اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ بیت المقدس گئے اور صبح سے پہلے چلے آئے ،حالانکہ بیت المقدس یہاں سے کتنا دور ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہاں! میں تو اس سے زیادہ دور کی بات میں، ان کی تصدیق کرتاہوں، یعنی آسمان کی خبر کے بارے میں جو ان کے پاس صبح یا شام کو آتی ہے، ان کی تصدیق کرتا ہوں، اسی روز سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق پڑگیا۔(۱)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانیاں بتلائیں بہرحال جب وہ مشرکین حیرت میں پڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے لگے کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی نشانی یہ کہ میں فلاں وادی میں فلاں قبیلہ کے قافلہ پر گذرا تھا، اوران کا ایک اونٹ بھاگ گیا تھا، میں نے ان کو بتایا تھا، میں اس وقت شام کی طرف جارہا تھا (یعنی سفر معراج کا آغاز تھا)۔ پھر واپس آیا اور جب ضجنان میں فلاں قبیلہ کے قافلہ پر پہنچا، تو میں نے لوگوں کو سوتا ہوا پایا ، ان کے ایک برتن میں پانی تھا اور انہوں نے اس کو ڈھانک رکھا ------------------------------ (۱) رواہ الحاکم فی المستدرک