معراج کا سفر |
|
کہ اے ابو الحارث (شیر کی کنیت) میں رسول اللہا کا غلام ہوں، تو وہ اپنا سر ہلاتا ہوا میری طرف آیا، اور اپنے کندھے سے مجھے دھکادیا، گویا وہ مجھے راستہ بتارہا تھا یہاںتک کہ جنگل سے نکال کر راستہ پر لاکھڑا کردیا، پھر اس نے کاندھے سے اشارہ کیا ،میں سمجھ گیا کہ یہ ہمیں رخصت کررہا ہے۔(۱) حضرت خوات بن جبیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دورِفاروقی میں ایک مرتبہ قحط پڑا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ باہر نکلے اور دورکعت (استسقاء کی) نماز پڑھائی اور ہاتھ اٹھاکردعا کی۔ ابھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے کہ بارش ہوگئی، ابھی لوگ اپنی اسی حالت میں تھے کہ کچھ دیہاتی باہر سے آئے ،حضرت عمر کے پاس آکر کہنے لگے۔ امیر المومنین!ہم لوگ فلاںدن فلاں وقت اپنے دیہاتوں میں تھے کہ اچانک ہمارے سروں پر بادل چھاگئے جس میں ہم نے آواز سنی۔ اَتَاکَ الْغَوْثُ اَبَاحَفْصٍ، اَتَاکَ الْغَوْثُ اَبَا حَفْصٍ۔ ابوحف رضی اللہ عنہ (حضرت عمر کی کنیت) تمہارے پاس مدد آگئی۔(۲)نماز سیکھنے کی چیز ہے میرے بزرگو! نماز اللہ کے خزانوں سے لینے کا بہت بڑا ذریعہ ہے، مگر جب کہ نماز نماز ہو، نماز کاظاہر بھی بنا ہوا ہو، اس کا باطن بھی صحیح ہو۔ ------------------------------ (۱) معجم کبیر طبرانی رقم ۶۴۳۲، مستدرک حاکم رقم ۶۵۵۰، عن محمد بن المنکدر (۲) کنزالعمال رقم ۲۳۵۳۸، جامع الاحادیث ۲۸۲۰۷، عن خوات بن جبیر