معراج کا سفر |
|
غیبت کا وبال اور اس کی صورتِ مثالی پھر راستہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منظر دیکھا، ایسی قوم پر گذرہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے، وہ لوگ اپنے چہروں اور سینوں کو ناخنوں سے چھیلتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا ،جبرئیل!یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل امین علیہ السلام نے کہا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبتیں کرتے تھے، اچھے بھلے لوگوں کی عزتیں نیلام کرتے تھے۔ غیبت کا یہ وبال ہے جس کی صورتِ مثالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلائی گئی۔نماز چھوڑنے کا وبال اور اس کی صورتِ مثالی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ثُمَّ اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ تُرْضَخُ رُؤُوْْسُہُمْ بِالصَّخْرِ کُلَّمَا رُضِخَتْ عَادَتْ کَمَا کَانَتْ وَلَا یَفْتُرُ عَلَیْہِمْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ تو ایسی قوم پر گذر ہوا، جن کے سرپتھروں سے کچلے جارہے ہیں،سروں پر پتھر آکر گر رہے ہیں، سرپھوٹ جاتے ہیں، پھر صحیح ہو جاتے ہیں، پھر پتھروں سے کچلے جاتے ہیں، اسی طرح سلسلہ چلتا رہتا ہے، بند نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھ کر پوچھا… مَاہٰؤُلَائِ یَاجِبْرِیْلُؑ؟ جبرئیل علیہ السلام ! یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: