معراج کا سفر |
|
فَلَمَّا خَلَصْتُ اِذَا مُوْسیٰ… حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب میں چھٹے آسمان میں داخل ہو اتو وہاں میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، جبرئیل علیہ السلام نے تعارف کروایا کہ اللہ کے نبی! یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور کہا مَرْحَباً بِالْاَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیِّ الصَّالِحِ… مرحبا برادر صالح اور نبی صالح۔ (۱)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام رودئیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں… فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَکٰی… جب میں آگے بڑھا تو موسیٰ رو دئے، فَقِیْلَ مَایُبْکِیْکَ؟ انہیں پوچھا گیا کہ آپ کے رونے کا کیا سبب ہے؟ قَالَ اَبْکِیْ لِاَنَّ غُلاَماً بُعِثَ بَعْدِیْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِہِ اَکْثَرُ مِمَّنْ یَّدْخُلُہَا مِنْ اُمَّتِیْ ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں اس لئے رورہا ہوں کہ ایک نوجوان پیغمبر میرے بعد مبعوث ہوئے، ان کی امت کے جنت میں داخل ہونے والے میری امت کے لوگوں سے زیادہ ہوں گے، تو مجھے اپنی امت پر حسرت ہے کہ انہوں نے میری ایسی اطاعت نہ کی جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریگی، اس لئے میری امت کے ایسے لوگ جنت سے محروم رہے تو ان کے حال پر رونا آتا ہے ۔(۲) ------------------------------ (۱) حوالۂ سابق (۲) بخاری شریف رقم ۳۸۸۷، ابن حبان رقم ۴۸، معجم کبیر طبرانی رقم ۱۵۹۴۲، مسند احمد رضی اللہ عنہ ۸۸۳۵