معراج کا سفر |
|
بجالائے، اورنور السموت والارض کے جمالِ بیمثال کو حجاب کبریائی کے پیچھے سے دیکھا، یعنی حق تعالیٰ شانہ کا دیدار کیا، اور بلا واسطہ اللہ تعالیٰ سے کلام کیا اور وحی سے مُشَرَّف ہوئے۔ فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہِ مَا اَوْحٰی… پس وحی کی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جو وحی کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔ رَئیْتُ النُّوْرَ الْاَعْظَمَ فَاَوْحٰی اللّٰہُ اِلَیَّ مَاشَائَ اَوْحیٰ میں نے نورِ اعظم یعنی نورِ الٰہی دیکھا ،پھر اللہ نے میری طرف وحی بھیجی جو چاہی یعنی مجھ سے کلام کیا۔ (۱)کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟ کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کو دیکھا؟ اس بارے میں شروع سے اختلاف چلا آرہا ہے، بعض صحابہ کی رائے یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے۔ ان کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے۔ لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ… کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ لیکن جمہور صحابہ اور تابعین کی رائے اور راحج قول یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکی آنکھوں سے بھی اور دل کی آنکھوں سے بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے، کیونکہ خود ------------------------------ (۱) سیرت مصطفی ج۱/۳۰۵