معراج کا سفر |
|
کے پاس دیکھا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک گئے تھے۔پندرھواں فائدہ اللہ تعالیٰ نے جتنے اہتمام سے معراج کا قصہ بیان فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک انتہائی عجیب قسم کا واقعہ ہے، اگر یہ واقعہ نیند کی حالت میں یا روحانی طور پر ہوتا تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ (نیند میں تو ایسے واقعات عام انسانوں کے ساتھ بھی پیش آسکتے ہیں)سولھواں فائدہ آیت میں ’’بِعَبْدِہِ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی بندہ کے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو لے گئے، اس کے معنی ایسے ہی ہیں جیسے کہا جاتا ہے فلاں کا غلام آیا تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ غلام جاگنے کی حالت میں آیاسترھواں فائدہ اگریہ واقعہ خواب کی حالت میں یا روحانی طور پر ہوتا تو جب کفار نے معراج کو جھٹلایا تھا، بیت المقدس اور اپنے قافلے کے حالات پوچھے تھے (جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے) تو آ پ ا اس وقت بہت آسانی سے جواب دے دیتے کہ میں کب کہہ رہا ہوں کہ یہ واقعہ جاگنے کی حالت میں ہوا ہے، جو تم ایسی باتیں کررہے ہو۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو بیت المقدس کی ہیئت وکیفیت بیان کرنے کی فکر میں پڑگئے تھے جیساکہ حدیثوں میں ہے۔ اور اس فکر پراللہ تعالیٰ نے بیت المقدس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے