معراج کا سفر |
|
دوسری قسم علمی فوائد قال اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ اٰیَاتِنَا اِنَّ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ (سورۃ الإسراء) پاک ہے وہ اللہ جو اپنے بندے ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم )کو رات ہی رات عجب طور پر مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گیا۔ جس کے آس پاس (ملک شام کو) ہم نے ( دینی اور دنیوی لحاظ سے) بابرکت بنایا ہے، (دینی برکت یہ ہے کہ وہاں بہت زیادہ انبیاء کرام علیہم السلام مدفون ہیںاور دنیوی برکت یہ کہ درخت، نہریں، اور پھل پھول بہت زیادہ ہیں۔ غرض مسجدِ اقصیٰ تک عجیب طریقے سے اس لئے گئے) تاکہ ہم اس بندے کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں۔ (جن عجائبات میں سے کچھ تو یہ ہیں کہ اتنی تھوڑی سی دیر میں اتنا لمبا فاصلہ طے کرنا، تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو دیکھنا اور ان کی باتیں سننا اور کچھ عجائبات آسمان پرجانا اوروہاں کے حالات دیکھنا۔ جو بہت سے عجائبات ہیں۔) بے شک اللہ تعالیٰ بہت سننے اور بڑے دیکھنے والے ہیں۔ (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سنتے اور ان کے حالات کودیکھتے ہیں۔ اس لئے ان کو ایسی عزت