معراج کا سفر |
|
لَوْدَنَوْتُ مِنْ بَعْضِہَا لاَحْتَرَقْتُ شیخ سعدی شیرازیؒ نے اس کا ترجمہ کیا ہے بدو گفت سالارِ بیت الحرام کہ اے حاملِ وحی برتر خِرَام چوں در دوستی مخلصم یافتی عنانم زصحبت چرا تافتی بگفتا فراتر مجالم نماند بماندم کہ نیروئے بالم نماند اگر یک سَرِ موئے برتر پرم فروغِ تجلی بسوزد پرم بیت اللہ کے سردار ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ان (جبرئیل علیہ السلام ) سے کہا اے وحی کے اٹھانے والے آگے چلو جب آپ نے مجھے دوستی میں مخلص پایا تو میری رفاقت سے باگ کیوں موڑ رہے ہو؟ تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا آگے بڑھنے کی طاقت نہیں رہی، میں عاجز ہوگیا کیوں کہ میرے پروں میں آگے بڑھنے کی سَکَت نہیں رہی اگر میں ایک بال کے برابر بھی آگے بڑھوںگا تو تجلی کی روشنی اور اس کی شعاعیں میرے پروں کو جلاکر خاک کردیگی۔سدرۃ المنتہیٰ کے بعد مقامِ صریف الاقلام تک عروج پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفراوربلندی کی طرف ہوا، سدرۃ المنتہیٰ سے اوپر ایک بلند مقام ہے،جس کو مقامِ صریف الاقلام کہتے ہیں، وہاں پہنچ کر قلم کی چرچراہٹ اور لکھنے کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے، لکھتے وقت قلم کی جو آواز پیدا ہوتی ہے، اس کو