معراج کا سفر |
|
ساتواں فائدہ حضرت موسی ٰعلیہ السلام یہ کہہ کر روئے کہ ان کی امت کے لوگ جنت میں میری امت کے لوگوں سے زیادہ جائیں گے، چونکہ یہ رونا اپنی امت پر غم وحسرت اور ہمارے پیغمبرا کی کثرتِ تابعین پر غبطہ (رشک) کے طور پر تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ آخرت کے امور میں غبطہ پسندیدہ ہے ۔ غبطہ کہتے ہیں کہ دوسرے کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرے کہ میرے پاس بھی یہ نعمت ہوتی اور دوسرے کے پاس یہ نعمت چلے جانے کی تمنا نہ کرے، ورنہ یہ حسد ہے اور حرام ہے۔ (یہ فوائد امام نووی شارحِ مسلم نے لکھے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور فوائد بھی جو خیال میں آئے لکھے جاتے ہیں)آٹھواں فائدہ جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی رکاب پکڑی اور میکائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام تھامی۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ سوار اگر کسی مصلحت سے اپنے خدام سے ایسا کام لے یاکوئی محبت کرنے والا صرف اکرام و محبت سے یہ کام کرے تو اس کو قبول کرلینا جائز ہے البتہ تکبر کے لئے نہ ہو۔نواںفائدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقاماتِ متبرکہ (برکت والی جگہوں) میں نماز پڑھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقاماتِ شریفہ میں نمازپڑھنا موجبِ برکت ہے