معراج کا سفر |
|
سورۂ نجم میں معراج کا تذکرہ سورۂ نجم میں اللہ تعالیٰ نے معراج کا تذکرہ فرمایا ہے وَالنَّجْمِ اِذَاہَوَیO مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰیO وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوَیO اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُوْحَیO عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوَیO ذُوْ مِرَّۃٍ فَاسْتَوَیO وَہُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلَیO ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّیO فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنَیO فَاَوْحَی اِلٰی عَبْدِہِ مَا اَوْحَیO مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاَیO (سورۂ نجم آیت -۱تا ۱۱) ترجمہ:قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے ،یہ تمہارے ساتھ رہنے والے (پیغمبر) نہ راہ سے بھٹکے اور نہ غلط راستے ہولئے، اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں، ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے، ان کو ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے، پیدائشی طاقتور ہے، وہ فرشتہ اپنی اصلی صورت پرنمودار ہوا ، ایسی حالت میں کہ وہ آسمان کے بلند کنارہ پر تھا، وہ فرشتہ نزدیک آیا پھر اور نزدیک آیا دوکمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا اور بھی کم، اللہ تعالیٰ نے ( اس فرشتہ کے ذریعہ سے) اپنے بندہ پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرماناتھی، قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں غلطی نہیں کی۔ اَفَتُمَارُوْنَہُ عَلٰی مَا یَرَیOوَلَقَدْ رَآَہُ نَزْلَۃً اُخْرَیO عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَیO عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَأْوَیO اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَیO مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَیO لَقَدْ رَاَی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَیO ------------------------------