معراج کا سفر |
|
دعا کے ایک ایک لفظ میں غور کرو، کیسی بے کسی ہے، بے بسی ہے، کیسی اللہ سے لو لگائی جارہی ہے، کیسی اللہ کی رضا وخوشنودی کی درخواست کی جارہی ہے۔وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا دعا کب بے اثر جاسکتی تھی… دعا کرکے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، مقام قرن الثعالب پر پہنچے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یکایک جب سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہیں، اور اس میں جبرئیل امین موجود ہیں۔ جبرئیل امین نے کہا قَدْ بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہاڑوں کو نہیں، پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حکم کریں گے اس کی تعمیل کرے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ مَلَکُ الْجِبال نے مجھے سلام کیااور عرض کیا۔ یَا مُحَمَّدُ ذٰلِکَ لَکَ! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو پورا اختیار ہے۔ اللہ کے نبی! پہاڑ میرے تصرف میں ہیں آپ جوچاہیں حکم دیں، اگر آپ حکم دیں تو ان دوپہاڑوں کو ملادوں، اُطْبِقُ عَلَیْہِمُ الْاَخْشَبَیْنِ، ان دوپہاڑوں کو ملادوں، جن کے بیچ میں طائف کا علاقہ آباد ہے، جس سے تمام لوگ پس جائیں۔ قربان جائیے! زخم ابھی تازہ ہے صدمہ ابھی موجود ہے… مگر رحمت والی ذات نے کیا کہا؟ کیا بدلہ لیا؟ نہیں وہ ذات تو انسانیت کو بدلہ دلوانے آئی تھی، وہ ذات بدلہ لینے نہیں آئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔