معراج کا سفر |
|
جانتے، نہ جانیں، ہم آپ کو ہمارے پاس بلاکر دنیا کو آپ کے مقام سے متعارف کرانا چاہتے ہیں، رہتی دنیا تک آپ کا ذکر ہوتا رہے گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک، پھر وہاں سے آسمانی سیر کروائی، یہ درحقیقت دوسفر ہیں، مسجد ِحرام سے بیت المقدس کا سفر، جس کو اسراء کہا جاتا ہے، اور بیت المقدس سے عالم بالا تک، جس کو معراج کہتے ہیں، کبھی دونوں کو اسراء ومعراج بھی کہدیا جاتا ہے۔معراج سے اشارہ ختم ِنبوت کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر ِمعراج اتنا عظیم الشان تھا کہ ایسا سفر نہ کسی نے اس سے پہلے کیا نہ بعد میں کوئی کرسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے بلند مقام تک پہنچایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں سے بھی آگے بڑھ گئے، عرش عظیم تک آپ کی رسائی ہوئی جو کائنات کا منتہیٰ ہے، کائنات کی آخری حد ہے جس کے بعد اب کوئی مقام نہیں، گویا بقول عارفین کے عرش تک سیر کرانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ عرش کائنات کا منتہیٰ ہے ،اس کے بعد کسی مخلوق کا وجود ثابت نہیں …اسی طرح نبوت ورسالت کے تمام کمالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منتہیِ ہیں، آپ پر ختم ہیں(۱)معراج کس سال اور کس مہینہ میں ہوئی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کس سال ہوئی اس میں علمائِ سیر کا اختلاف ہے، تقریباً دس قول ہیں جو فتح الباری میں مفصل مذکور ہیں۔ ------------------------------ (۱) (سیرت مصطفیٰ ج۱/۲۸۹)