منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
لہٰذا میں عدالتِ عالیہ سے درخواست کرتا ہوں، کہ مقاصدِ شرعیہ کی دفعہ ۱؍ (حفاظتِ دین) کے تحت، اُس کے اخبار کی اشاعت بند کردی جائے، اس کا رجسٹریشن منسوخ کردیا جائے، اور تعزیراتِ ہند کی دفعہ ایک سو ترپن (۱۵۳)،دو سو پچانوے (۲۹۵) اور دفعہ چار سو ننانوے (۴۹۹) کے تحت، تین سال کی قید اور جرمانہ عائد کیا جائے، تاکہ دوسرا کوئی ایڈیٹر اور صحافی اس طرح کی جرأت نہ کرسکے۔
وکیل دفاع ثانی - مع مدعی علیہ ثانی :
محترم جج صاحب ! وکیلِ استغاثہ کی ایل ایل بی (LLB) کی ڈگری منسوخ کردیجیے، انہیں دوبارہ وکالت پڑھنے کا حکم کیجیے، اس لیے کہ انہیں یہ تک معلوم نہیں ہے کہ اس آزاد وجمہوری ملک میں اس کے ہر شہری کو ، دستورِ ہند کی دفعہ اُنیس (۱۹) کے تحت، تقریر، تحریر اور اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، اور ہر حق دار اپنے حق کو استعمال کرسکتا ہے،اور اپنے حق کے استعمال پر اُسے مجرم گرداننا خود ایک جرم ہے، میرے مؤکل نے بھی، اپنے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے، اسلام ، پیغمبرِ اسلام اور مسلمانوں سے متعلق جو باتیں اس کے ضمیر میں تھیں، انہیں نوکِ قلم پر لاکر صفحاتِ اخبار پر بکھیر دیا، اسے اس کے اس فعل پر مجرم قرار دینا، ایسا ہی ہوگا جیسے کسی شادی شدہ فرد کو اپنی بیگم کے ساتھ گھر سے باہر نکلنے پر اس لیے مجرم قرار دینا،کہ اس کی وجہ سے غیر شادی شدہ افراد کے دل دکھ جاتے ہیں، اور انہیں اپنی محرومیٔ قسمت کا صدمہ پہنچتا ہے، اور ظاہر ہے ؛یہ بات انتہائی نامعقول ہے۔