تجلیات جذب |
ہم نوٹ : |
|
تجلیاتِ جذب (حصۂ دوم) اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَللہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ 19؎پچھلے جمعہ کو اسی آیت کی تلاوت کی گئی تھی کہ اﷲ تعالیٰ تک بندے کو پہنچنے کے دو راستے ہیں۔ اﷲ سبحانہٗ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اَللہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ اللہ جس بندہ کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ اور جو اﷲ کی طرف چلتا ہے انابت اور توجہ کرتا ہے،اﷲ کی تلاش میں محنت و مشقت اٹھاتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کو بھی ہدایت دے دیتا ہے۔ تو دو راستے ہوگئے۔ پہلے کا نام جذب ہے اور دوسرے کا نام سلوک ۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے صفتِ جذب کو مقدم فرمایا کیوں کہ اس میں بندہ مراد ہوتا ہے مراد کے معنیٰ ہیں جس کا ارادہ کیا جائے اور دوسرے راستہ یعنی راہِ سلوک میں بندہ مُرید رہتاہے پس جس کوحق تعالیٰ صفت ِ جذب عطا فرماتے ہیں یعنی اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں وہ اﷲ تعالیٰ کا مراد ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کو اپنا بنانے کا ارادہ فرمالیا۔ اور جو مَنْ یُّنِیْبُ ہے اﷲ کی طرف توجہ کرتا ہے، اﷲ کو تلاش کرتا ہے، اﷲ کے راستہ میں محنت و مشقت اُٹھاتا ہے،بزرگوں کی خدمت میں جاتا ہے، اﷲ اﷲ کرتا ہے ، گناہ سے بچتا ہے ، یہ مرید ہے۔اﷲ کا ارادہ کرنے والا ہے۔ اس کو بھی بعد میں جذب نصیب ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ بغیر جذب کے کوئی اﷲ تک نہیں _____________________________________________ 19؎الشورٰی:13