تجلیات جذب |
ہم نوٹ : |
|
نورا کشتی نہ معلوم ہو یعنی ملی بھگت نہ معلوم ہو ، جنید بغدادی نے خوب دانت پیسے اور زور لگایا مگر اوپر اوپر سے ، اندر سے طاقت استعمال نہیں کر رہے تھے ۔ اتنے میں گر گئے اور وہ سید صاحب سینے پر چڑھ گئے اور سارا انعام لے گئے۔ رات کو خواب میں جنید بغدادی کو سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اے جنید! تم نے اپنی عزت اور آبرو کو ، اپنی بین الاقوامی شہرت کو ، پورے بغداد میں اپنے نام اور جاہ کو میری اولاد کی محبت میں فدا کر دیا جو فاقہ سےتھی، آج تم اولیاء اﷲ کے رجسٹر میں درج ہوگئے۔ پھر اتنے بڑے پہلوان نے اپنے نفس کو اتنا مٹایا کہ ایک بار اعلان ہوا کہ اس مجلس میں جو سب سے کمترین اور بد ترین انسان ہو وہ مسجد چھوڑ دے۔ سب سے پہلے جنید بغدادی نکلے۔ اور فرمایا میں سب سے بد ترین انسان ہوں گناہ گار ہوں۔ ان کے شیخ کو جب اطلاع دی گئی کہ آج جنید بغدادی نے یہ کرتب دکھایا ہے تو فرمایا کہ آہ ! یہی چیز تو ہے جس نے جنید کو جنید بنایا ہے کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اپنے کو کچھ نہیں سمجھتا ؎کچھ ہونا مرا ذلت و خواری کا سبب ہے یہ ہے مرا اعزاز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں سب سے بڑی فقیری اپنے کو مٹادینا ہے ، نفسانی خواہشات کو مٹانا ہے ، باہ کو مٹانا ہے ، جاہ کو بھی مٹانا ہے۔ بس دو ہی تو مرض ہیں ایک باہی دوسرا جاہی۔ الحمد ﷲ! جذب کا ایک قصہ یہ بھی بیان ہوگیا ، اب دو قصے اور باقی رہ گئے ہیں اس کے بعد ختم کرتا ہوں ۔ آج جمعہ کو اس مضمون کو ختم کرنے کا ارادہ ہے دُعا بھی کیجیے۔ مشہور شاعرحفیظ جونپوری کا واقعۂ جذب جون پور میں حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔ ایک شرابی آیا اور اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میں آپ کو جانتا ہوں ۔آپ بی اے ہیں، علی گڑھ سے بی اے علیگ اور ایل ایل بی ہیں۔ اس کے باوجود یہ گول ٹوپی اور لمبا کرتہ۔ میں شراب پیتا ہوں، کیا میں بھی آپ کی طرح ولی اﷲ ہوسکتا ہوں۔ دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے پاس بڑے بڑے علماء آرہے ہیں۔ فرمایا کہ جہاں سے میں بنا ہوں وہیں آپ چلے جائیں، مجھ کو بھی کوئی سنوارنے والا