طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند (جن کو اللہ نے ایک دل آویز اور ہمہ گیر شخصیت عطا فرمائی تھی) کو اور جنرل سکریٹری کے عہدہ کے لئے حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب (جو اپنی جرأت وحمیت اور جوشِ عمل کے لحاظ سے طبقہ علماء میں ممتاز تھے) کو منتخب کیا گیا۔ یہ اس مبارک اور مؤثر مہم کا آغاز تھا جو اب تک جاری ہے۔
حضرت مولانا اس کے بانی اراکین میں تھے، اس کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے متعدد اجلاس منعقد ہوئے، انفرادی طور پر بھی بورڈ نے اپنی سرگرمیوں میں تیزی اور حرکت پیدا کی۔ ۱۹۷۷ء میں رانچی میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا، تو بعض حلقوں کی طرف سے قیادت کی تبدیلی کا مسئلہ اٹھایا گیا اور حضرت مولانا کا نام صدارت کے لئے پیش کیا گیا، حضرت مولانا نے اس نازک موقع پر اپنے بصیرت افروز خطاب میں صاف صاف فرمایا کہ جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے تو ملاح بدلے نہیں جاتے، اس کا سب سے بڑا محرک یہ تھا کہ حضرت مولانا کے بقول حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ جیسا باوقار اور ہردل عزیز صدر بورڈ کو ملنا مشکل تھا اور بورڈ جیسے مشترک ملی ادارہ کی قیادت کے لئے وہی موزوں تھے۔
۱۷؍جولائی ۱۹۸۳ء کو حضرت قاری صاحب کے انتقال کے بعد صدارت کی جگہ خالی ہوئی، ۲۷-۲۸؍دسمبر ۱۹۸۳ء کو بورڈ کا سالانہ اجلاس مدراس میں طے پایا، جس میں مولانا اپنے امراض کی وجہ سے چاہتے ہوئے بھی شریک نہ ہوسکے، اس اجلاس میں مولانا کو باتفاق رائے بورڈ کا صدر منتخب کیا گیا، مولانا کی صدارت کے زمانہ میں بہت سے ایسے سنگین مرحلے بھی ملت اسلامیہ ہندیہ کی تاریخ میں پیش آئے جن کی نظیر نہیں ملتی، اور ہر موقع پر مولانا کی بصیرت وغیرت کے نمونے دیکھنے میں آئے۔
۶-۷؍اپریل ۱۹۸۵ء میں بورڈ کا عظیم اجلاس کلکتہ میں ہوا، جس میں محتاط اندازہ کے