ہندوستانی مسلمانوں کے وقار کا رمز وعلامت سمجھا جاتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں ملک کی آزادی کے بعد ہی سے ہندو احائیت کی سرگرمیاں جب بڑے زور وشور سے شروع ہوئیں ، اس وقت حکومت کا رجحان متعدد پارٹیوں اور خود مسلمانوں کے بعض تجدد پسند اور آزاد خیال افراد کے مطالبہ کی وجہ سے ایک مشترکہ عائلی قانون (Unitorm Civil Coad) کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی طرف ہوا، اور اسے قومی وحدت ویک رنگی کا سب سے اہم مظہر سمجھا جانے لگا، اس سلسلہ میں بعض تکلیف دہ واقعات بھی پیش آئے، حکومت کے بعض بیانات بھی اس کی تائید کررہے تھے، پھر عبد الحمید دلوائی کی قیادت میں ایک طبقہ مسلسل عائلی قانون کا مطالبہ دہرارہا تھا، یہ مسلمانوں کے تہذیبی اور معاشرتی ارتداد اور شریعت اسلامی سے بغاوت اور اس کی برکتوں سے محرومی کا پیش خیمہ تھا، اس خطرہ کا احساس سب سے پہلے حضرت مولانا منت اللہ رحمانی امیر شریعت بہار واڑیسہ کو ہوا، انہوں نے اس کے خلاف ایک ہمہ گیر او رجامع تحریک چلانے کا فیصلہ کیا، جس کی تائید مسلم مجلس مشاورت اور ہندوستان کے تینوں مرکزی اداروں (دارالعلوم دیوبند، مظاہرعلوم سہارنپور اور ندوۃ العلماء لکھنؤ) کے ذمہ داران وعلماء نے پوری طرح کی۔ اور ۲۷-۲۸؍دسمبر ۱۹۷۲ء کو ممبئی میں مسلم پرسنل لاء کنونشن منعقد ہوا، یہ کنونشن اس لحاظ سے ممتاز تھا کہ اس میں مسلمانوں کے مختلف مکاتب خیال اور مذہبی گروہوں کے نمائندے خطرات اور اندیشوں کے احساس کے ساتھ مستقبل کا لائحۂ عمل طے کرنے کے لئے ایک اسٹیج پر موجود تھے، حضرت مولانا علی میاں ندوی رابطۂ عالم اسلامی کے اجلاس کے سلسلہ میں حجاز کے دورہ پر تھے، اور حج کے بعد واپسی کا پروگرام تھا؛ لیکن مولانا نے اس مسئلہ کی اہمیت اور نزاکت کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے فوراً واپسی اور کنونشن میں شرکت کا پروگرام بنایا، کنونشن بے حد کامیاب اور مؤثر رہا، اس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورد کا قیام عمل میں آیا، جس کی صدارت کے لئے باتفاق رائے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد