معراج کا سفر |
|
تین ہوں، ایک پیالے میں پانی ہو جو مٹھاس میں شہد جیسا ہو، توکبھی اس کو شہد کہہ دیا ہو، کبھی پانی۔ یہاں دو باتیں قابل غور ہیں، ایک یہ کہ شراب حرام چیز ہے تو وہ کیوں پیش کی گئی؟دوسری بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ ہی اختیار کیا اور باقی چیزوں کو رد کردیا، اس میں کیا حکمت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر صورت میں شراب اس وقت تک حرام نہ تھی کیونکہ شراب مدینہ میں حرام ہوئی ہے مگر سامانِ فرحت ضرور ہے اس لئے دنیا کے مشابہ ہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہ کیا، یہ وجہ ہے شراب اختیار نہ کرنے کی،شہد بھی اکثر لذت کے لئے پیا جاتا ہے ،غذا کے لئے نہیں پیا جاتا، تو یہ بھی زائد چیز ہے، اور اس میں دنیوی لذت کی طرف اشارہ ہے، اور پانی بھی غذا کا مددگار ہے غذا نہیں ہے، جس طرح دنیا دین کی مددگار ہے مقصود نہیں، یہ وجہ ہوئی شہد اور پانی کو اختیار نہ کرنے کی، اور دین سے خود غذائے روحانی مقصود ہے جیسا کہ دودھ سے غذائے جسمانی مقصود ہے اور غذائیں اگرچہ اور بھی ہیں مگر دودھ کو اوروں پر ترجیح اس لئے ہے کہ کھانے اور پینے دونوں کا کام دیتا ہے، یہ وجہ ہوئی دودھ کے اختیار کرنے کی۔ اسی طرح بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیالے سدرۃ المنتہیٰ کے بعد پیش کئے گئے، تو حافظ ابن کثیرؒ نے صراحت کی ہے کہ یہ پیالوں کا پیش کرنا دو مرتبہ ہوا، ایک بیت المقدس سے فراغت پر اور ایک سدرۃ المنتہیٰ کے بعد۔ (۱) ٭٭٭ ------------------------------ (۱) تذکرۃ الحبیب فی تسہیل نشر الطیب ص۸۱