کھانا ہوگا ، جو شرعاً حرام ہے،جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
{لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} ۔
’’تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ۔‘‘
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
’’ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ جَسَدٌ غُذِيَ بِالْحَرَامِ ‘‘ ۔ (مشکوۃ شریف:ص/۲۴۳)
’’ وہ جسم جنت میںداخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام غذا سے ہوئی۔‘‘
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد :
’’ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِّنَ الأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّہٗ یُطَوَّقُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ ‘‘ ۔کہ- ’’اگر کوئی شخص ظلماً، کسی کی ایک بالشت جگہ لے لے، تو اُس کو قیامت کے روز سات زمینوں سے اُس کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘ (صحیحین)
لہٰذا آپ لوگ، اپنی بہنوں کو اُن کاحصۂ شرعی دے دو، تاکہ حرام خوری اور قیامت کے روز کے عذاب سے بچ سکو۔
حامد وخالد(ایک ساتھ) : حضرت مفتی صاحب!
آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمارا غم ہلکا کردیا، اور شریعت کی روشنی میں ہمارے مسئلے کا حل فرمایا۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !!