(۱) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔(یعنی نوکروں، غیروں اور اولڈ ہاؤس کے رحم وکرم پر انہیں مت چھوڑو)۔
(۲) والدین کی اطاعت وفرمانبرداری کرو۔
(۳) ان کے حق میں دعائے رحمت ومغفرت کرتے رہو۔
{وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِيْ صَغِیْرًا} ۔ (بني اسرائیل:۲۴)
{رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ} ۔ (سورۂ ابراہیم :۴۱)
اِس آیت سے یہ بھی پتہ چلا کہ اسلام کی نگاہ میں ذاتِ خداوندی کے بعد، والدین کا مقام ومرتبہ ہے ، اس لیے قرآنِ کریم اور سنتِ طیبہ نے جہاں اللہ کی توحید کو بیان کیا، وہاں حقوق العباد میں سب سے پہلے والدین کے حقوق، اور اُن کی اہمیت کو بیان کیا -کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی انسان کا خالق ہے، لیکن ظاہر ی طور پر مادی لحاظ سے ،والدین بھی اِس عملِ تخلیق میں ایک حد تک شریک ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا :
{مَا حَقُّ الْوَالِدَیْنِ ؟}-’’والدین کا کیا حق ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہُمَا جَنَّتُکَ وَنَارُکَ ‘‘ ۔
’’وہ دونوں تمہاری جنت ہیں اور تمہاری جہنم ہیں۔‘‘
یعنی والدین ہی کے حوالے سے معاشرہ بنتا بھی ہے، اور بگڑتا بھی ، اور یہی وہ نعمت ہے، جس کی قدر کرکے، قومیں دنیا میں سرفراز ہوتی ہیں۔
لہٰذا خالد! تم اپنے والدین کو ستانے سے بچو، کیوں کہ ممکن ہے، تم آج ان کو