مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جمع کثرت کی تصغیر بنانے کے دو طریقے ہیں:
١۔ جمع کثرت کو جمع قلت کی طرف لوٹایا جائے گابشرطیکہ کلمہ کی جمع قلت آتی ہو پھر اس کی تصغیر بنائی جائے گی جیسے غلمان غلام کی جمع کثرت ہے اس کو جمع قلت غلمة کی طرف رد کیا گیا پھر اس کی تصغیر بنائی گئی جو غُلَیمة ہے ۔
٢۔ جمع کثرت کو واحد کی طرف لوٹایا جائے گاپھر واحد کی تصغیر بنائی جائے گی پھر اس کی جمع سالم لائی جائے گی جیسے غلام کی جمع کثرت غلمان تھی غلمان کو غلام واحد کیطرف رد کیا گیا پھر اس کی تصغیر بنائی گئی تو غلیِّم ہو گیا پھر اس کی جمع سالم بنائی گئی تو غلیمان ہوگیا وہو المطلوب۔
فائدہ ۔جمع بنانے میں یہ بات اہم ہے کہ اگر کلمہ مذکر عاقل کی جمع ہے تو جمع سالم واؤ نون کے ساتھ لائیں گے اور اگر غیر مذکر عاقل ہے تو الف تاء کے ساتھ جیسے دُوَر کی تصغیر دُوَیرات آئے گی۔
قولہ ۔وماجاء علی غیر ماذکر ۔۔۔شاذ
ش: تصغیر کے مذکورہ قواعد کے خلاف جو تصغیر آئی ہے وہ شاذ ہے ۔ جیسے ۔
١۔ انسان کی تصغیر میں قیاس اُنَیسِین ہے لیکن خلاف القیاس تصغیر اُنَیسِیَان لائی گئی یہ شاذ ہے ۔
٢۔ عشِیَّة کی تصغیر میں قیاس عُشَیَّة ہے لیکن خلاف القیاس تصغیر عُشَیْشِیة لائی گئی یہ شاذ ہے ۔
٣۔ غِلْمة کی تصغیر میں قیاس غُلَیمة ہے لیکن اُغیلمة لائی گئی یہ شاذ ہے ۔
٤۔ صبیة کی تصغیر میں قیاس صُبَیَّة ہے لیکن خلاف القیاس تصغیر اُصُیبَیة لائی گئی یہ شاذ ہے۔
قولہ ۔ وقولهم أصیغر منک ۔۔
ش: یہ مسئلہ بطور فائدہ کے ذکر کیا گیا ہے ۔