وللخماسي الْمُجَرّدِ أَرْبَعَةٌ سفرْجَلٌ وقِرْطَعْبٌ وجَحْمَرِشٌ وقُذَعْمِلٌ وللمزيد فِيهِ أبنيةٌ كَثِيرَة وَلم يَجِيء فِي الخماسي إِلَّا عضْرَفوطٌ وخُزَعبِيلٌ وقِرْطَبُوس وقَبعْثَرٰى وخَنْدَرِيْسٌ على الْأَكْثَر۔
اسم خماسی مجرد کی ابنیہ
عقلی تقسیم کا تقاضا ہے کہ اسم خماسی مجرد کی ١٩٢ ابنیہ ہوں اور وہ اس طرح کہ رباعی کی ابنیہ کو لام ثانی کے چار احوال سے ضرب دی جائے تو حاصل ١٩٢ آتا ہے لیکن ثقیل ہونے کی بنا پر باقی کو ساقط کردیا گیا (جاربردی)اور چار اوزان کو باقی رکھا گیا :
١۔ فَعَلْلَل جیسے سَفَرْجَل۔
٢۔ فعلَلْل جیسے قَرُطَعْب۔
٣۔ فَعْلَلِل جیسے جَحْمَرِش۔
٤۔ فُعَلْلِل جیسے قُذَعْمِل۔
فائدہ : امام سیبویہ اور جمہور نحاة کے نزدیک رباعی اور خماسی مستقل اقسام ہیں لیکن امام کسائی اور امام فراءکے نزدیک یہ دونوں ثلاثی مزید کی قسمیں ہیں ۔رضی
قولہ : وَلم يَجِيء فِي الخماسي إِلَّا عضْرَفوطٌ ۔۔۔