مٹانے؛ بلکہ دفن کرنے کی ساری کوششیں شروع کردیں اور نئے دین کو رائج کردیا، خود نبوت کا دعویٰ کردیا، برہمنوں کے عقائد وعادات سے بے حد متأثر ہوکر ان کی نقل شروع کردی اور ان سے تعلق خاطر اتنا بڑھتا گیا کہ وہ تمام امور میں دخیل ہونے لگے، اس وقت صورتِ حال یہ ہوگئی تھی کہ اسلام مظلوم ہوگیا تھا، اور اسے یتیمی کا داغ سہنا پڑرہا تھا، یہ ہندوستان کی تاریخ کا تاریک ترین دور تھا جو اگرچہ کچھ لمبے عرصہ تک باقی رہ جاتا تو اس ملک میں شاید کوئی اسلام کا نام لیوا باقی نہ بچتا، اس سنگین فضا میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اٹھے اور کلمہ حق بلند کیا، امراء ووزراء کو خطوط لکھے، جن کے اسلوب کی بلاغت اور حلاوت اور نرمی وسہولت سے مکمل افہام وتفہیم بے حد مؤثر ثابت ہوئی، ان خطوط میں شیرینی اور تلخی، نرمی وسختی اور شدت ولین کا امتزاج بلاشبہ مجدد صاحبؒ کی غیرت وحمیت اور رعایت حکمت ومصلحت کا بین ثبوت ہے، مجدد صاحب خطوط اور ملاقاتوں کے ذریعہ دعوت وتبلیغ کی ذمہ داری انجام دیتے رہے، اور بغاوت برپا کرنے کا کوئی خیال تک ان ے دل میں نہ آیا کہ یہ کفر کے لئے مزید راستہ ہموار کرنا ہوسکتا تھا، چناں چہ وہ اپنی اسی حکیمانہ روش کے مطابق اصلاح وتبدیلی کی کوششوں میں سرگرم رہے، رفتہ رفتہ اثرات بڑھے اور جہانگیر کے زمانہ میں یہ کوشش کامیاب ہوئی اور اکبر کا گمراہ کن نظام وعقیدہ دفن کردیا گیا۔
مجدد صاحبؒ کے اس طریقۂ کار پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا نے تحریر فرمایا ہے کہ موجودہ انقلابی اور پرفتن دور میں اسے اختیار کرنے کی ضرورت واہمیت سب سے زیادہ ہے، خاص طور پر اس طبقہ کو اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے جو سیاسی قوتوں ، حکومتوں اور جماعتوں کو چلینج کرنے، ان کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کی اپنی سرگرمیوں میں کسی قسم کی نرم روی، حکمت ومصلحت پسندی، ذہن سازی، تیاری اور تدریجی مراحل کا ذرا بھی لحاظ نہیں کرتا، اس طرح کی بے جا شدت پسندی بسا اوقات مثبت دعوتی اور عملی کاموں کے راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔