یہی وہ عظیم اور بے مثال تحریک ہے جس کے منتسبین، تلامذہ اور قابل صد افتخار فرزندوں میں ہمارے ممدوح حضرت مولانا علی میاں ؒ کا نام نامی بے حد نمایاں اور آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
ندوۃ العلماء ہی مولانا کی اصل تربیت گاہ ودرس گاہ اور سرگرمیوں کا حقیقی مرکز ہے، جہاں مولانا کا علمی، ادبی اور دعوتی سفر شروع ہوا، اور پھر وہیں ختم بھی ہوا، یہیں سے مولانا کو پرواز کا شعور وسلیقہ ملا اور پھر نصف صدی سے زائد عرصہ تک مولانا نے اپنی علمی ودعوتی تابانیوں سے ہزاروں کو منور کیا، اور نہ جانے کتنوں کی علمی تشنگی بجھائی، اور انہیں جینے کے سلیقوں اور طریقوں سے روشناس کرایا۔ ندوۃ العلماء سے مولانا کا تعلق بڑا قدیم رہا ہے، مولانا کے والد ماجد حضرت مولانا حکیم سید عبد الحئ حسنیؒ اور برادر بزرگ جناب مولانا ڈاکٹر سید عبد العلی حسنیؒ نے ندوۃ العلماء کی جو خدمات انجام دیں وہ واضح اور عیاں ہیں ، حضرت مولانا علی میاں ؒ ۱۹۲۹ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے اور ندوہ کے شیخ الحدیث مولانا حیدر حسن خاں ٹونکیؒ کے درس حدیث میں باضابطہ شریک ہوئے، اور صحیحین کے ساتھ ساتں سنن ابی داؤد اور سنن ترمذی بھی پڑھی، پورے دو سال ان کی صحبت میں گذارے اور حدیث میں خصوصی استفادہ کیا، ان کے درسِ بیضاوی میں بھی شریک ہوئے، مشہور فقیہ مولانا شبلی جیراجپوری سے فقہ کی بعض کتابیں پڑھیں ، یہ آپ کا طالب علمی کا دور ہے، پھر دوسرا دور ۱۹۳۴ء میں شروع ہوتا ہے، جب مولانا ندوۃ العلماء میں استاذ منتخب ہوئے اور تفسیر وحدیث اور ادب عربی کے اسباق کے ساتھ کبھی کبھار تاریخ ومنطق کے کچھ اسباق مولانا سے متعلق رہے، یہ ندوہ سے باضابطہ تعلق کا دور ہے، اس زمانہ میں مولانا کو اچھے اور ادب وعلم کا ذوق رکھنے والے معاصر رفقاء کی معیت اور مصاحبت ملی، اس کے ساتھ ادبی سرگرمیاں بڑے زور وشور سے جاری رہیں ، مولانا نے ندوہ کی اس وقت کی فضا اور ماحول کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے:
’’افسوس ہے کہ اس وقت دارالعلوم میں کوئی دینی ودعوتی فضا موجود نہ تھی، اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ خود ہم اساتذہ کا ذوق وذہن جن کا طلبہ پر اثر تھا، دعوتی نہیں بنا تھا، ہم میں