ہوں ، میں اس بات پر جتنا فخر کروں کم ہے؛ لیکن میری نیازمندی کی تاریخ اس سے زیادہ وسیع اور طویل ہے، کئی پشتوں سے میرا تعلق اس درس گاہ عالی مقام سے رہا ہے، یہاں کی زمین اُن لوگوں کے آنسوؤں سے نم اور یہاں کی فضا اُن کی دعاؤں اور آہوں سے اب بھی معطر ہوگی جو قافلہ بناکر اس سرزمین سے گذرے (اشارہ حضرت سید احمد شہید اور ان کے رفقاء مولانا اسماعیل شہید اور مولانا عبدالحئ برہانویؒ وغیرہم کی طرف ہے‘‘۔ (پاجا سراغِ زندگی ۱۲۵-۱۲۶)
حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کا دارالعلوم دیوبند سے تعلق محض شاگردانہ ہی نہیں ؛ بلکہ عقیدت مندانہ تھا، دارالعلوم کے اکابر واساتذہ سے انہوں نے کسب فیض فرمایا تھا، اور ان سے گہری محبت فرماتے تھے، حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنیؒ سے تو گویا انہیں عشق تھا، خود حضرت مدنیؒ کو مولانا سے بڑا لگاؤ تھا اور بڑی شفقت فرماتے تھے، مولانا مدنیؒ سے تعلق کی ابتدا تو اسی وقت سے ہوگئی تھی جب ۱۹۳۰ء میں لکھنؤ میں مولانا کا گھر حضرت مدنیؒ کی مستقل قیام گاہ بن گیا اور ہر سفر میں حضرت مدنی نے وہیں قیام فرمانا شروع کردیا، وہاں کی گفتگو، مجلسیں ، حضرت مدنی کی عادات ومعمولات، مزاجی خصوصیات، رہن سہن اور تقویٰ نے مولانا علی میاں ؒ کو گرویدہ بنالیا، پھر جب مولانا نے ۱۹۳۲ء میں حضرت مدنیؒ سے استفادہ کے لئے دیوبند جاکر چار ماہ قیام فرمایا تو تقریباً مہینہ بھڑ حضرت مدنی ہی کے دولت کدہ پر قیام رہا، بعد میں مولانا خود اصرار کرکے دوسرے کمرہ میں منتقل ہوئے، حضرت مدنی نے بڑی مشکل سے یہ اجازت مرحمت فرمائی، پھر بھی صبح کی چائے میں حاضری ضروری قرار دے دی۔ مولانا حضرت مدنیؒ کے درسِ بخاری وترمذی میں پابندی سے شریک ہوتے رہے، اور حضرت مدنی کے علمی استحضار، قوتِ تدریس، شانِ محدثیت اور مبسوط ومضبوط استدلالی خطاب سے بے حد متأثر رہے۔
مولانا علی میاں ؒ کے بقول انہیں تفسیر قرآن کے مطالعہ سے بڑا شغف تھا، اور قرآن میں ان کا بڑا جی لگتا تھا، یہ خود ان کی پاکیزگی قلب ونظر اور سلامت دل ونگاہ کی روشن دلیل ہے، اس تفسیری مطالعہ میں جو اشکالات درپیش ہوتے، اسے حل کرنے کے لئے مولانا نے