مولانا ان کے رسوخ علم، حمیت دینی، فرق محرفہ ومنحرفہ کی پوری واقفیت اور مقابلہ اور اصابت رائے سے بہت متأثر تھے، ندوہ کے جشن تعلیمی ۱۹۷۵ء میں صدارت کے لئے شیخ الازہر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود کا نام انہوں نے ہی تجویز کیا تھا۔
حضرت مولانا علی میاں ؒ اور مولانا نعمانیؒ کی رفاقت کی داستان بہت طویل ہے، اس پر مستقل کتاب تیار ہوسکتی ہے۔
یہ چند مشاہیر اہل علم اور معاصر احباب کا ذکر جمیل ہے، معاصرین کی فہرست تو بہت طویل ہے، اس صف میں اور بھی قدآور علماء اور مفکرین ہیں ، جن کا ذکر اختصار کے پیش نظر نہیں آسکا ہے، ان میں مولانا محمد اویس ندوی نگرامی، مولانا سید ابوبکر غزنوی، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیبؒ، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا نسیم احمد فریدیؒ، ڈاکٹر سید محمود مرحوم، ڈاکٹر محمد عبدالجلیل فریدیؒ، مولانا محمد سلیم مکی، چودھری غلام رسول مہر، ڈاکٹر محمد آصف قدوائی، مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی، مولانا محمد ناظم ندوی، مولانا عبدالرشید نعمانی، حکیم عبدالقوی دریاآبادی، مولانا محب اللہ لاری، مولانا شاہ عبدالرحیم مجددی، مولانا محمد اسحق سندیلوی، سید صباح الدین، عبدالرحمن، علامہ یوسف بنوریؒ اور مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی رحمہم اللہ سرفہرست ہیں ۔
ان سب سے مولانا کا بڑا گہرا ربط تھا، ان حضرات کو بھی مولانا سے بے حد تعلق ومحبت تھی، اتنے سارے اصحابِ کمال کا مولانا سے ربط خود مولانا کا امتیاز ہے، جو بہت کم افراد کو میسر آتا ہے۔
نوٹ: اس مضمون کی ترتیب میں زیادہ تر پرانے چراغ کے تینوں حصوں سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔
Rvr