حیلے بہانے - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سچی اور پکی توبہ پر خداوند ِقدوس کی طرف سے گناہوں کی بخشش کاوعدہ ہے، لیکن اس وعدہ پر گناہوں پر جرأت کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔حضورِ اقدسﷺ کاعبادت میں انہماک : اللہ جل جلالہ نے اپنے حبیب پاکﷺ کا سب کچھ معاف فرما دیا، پھر بھی آپ راتوں رات نماز میں کھڑے رہتے تھے جس کی وجہ سے آپ کے مبارک قدموں پرورم آگیا تھا۔ جب آپ سے عرض کیا گیا کہ جب اللہ نے آپ کاسب کچھ معاف فرمادیا تو آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کاشکر گزار بندہ نہ بنوں۔۱؎ بہت سے صحابہؓ کو حضورِ اقدسﷺ نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی، اور غزوۂ بدر کے شریک ہونے والے صحابہ کے لیے خدائے پاک کی طرف سے اعلان فرما دیا گیا تھا کہ تم جو چاہو کرو تمہاری بخشش کردی گئی۔ان حضرات نے اس کی وجہ سے کسی گناہ پر جرأت نہ کی، بلکہ اور زیادہ نیک کاموں میں لگے اور گناہوں سے دور رہے۔ غور کرنے کامقام ہے کہ جن کاسب کچھ معاف کردیا گیا اور جن کو جنت کے داخلہ کادنیا میں اعلان کر کے اطمینان کرادیا گیا ان کو تو نیکیوں سے فرصت ہی نہ ملی اور گناہوں کی طرف دھیان ہی نہ گیا، اور جنہوں نے ابھی تک توبہ کی بھی نہیں وہ توبہ کے بھروسہ گناہ کرتے جارہے ہیں جب کہ موت سے پہلے توبہ کاموقع ملنے کایقین بھی نہیں ہے : ببیں تفاوت رہ از کجاست تابکجا۱۰۔ بے عملی کے لیے عُلَما کے اختلاف کابہانہ : بعض لوگ اپنی بے عملی کے لیے عُلَما کے اختلاف کو بہانہ بناتے اور کہتے ہیں کہ ارے صاحب! کس بات پر عمل کریں، ایک مولوی کچھ کہتا ہے دوسرا مولوی کچھ بتاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ ان چیزوں پر تو عمل کریے جن میں کسی کااختلاف نہیں۔ آخر پانچ نمازوں اور رمضان کے روزوں کے فرض ہونے میں اور صاحب ِنصاب پر زکوٰۃ کی فرضیت اور صاحب ِاستطاعت پر حج کی فرضیت میں کس کا اختلاف ہے؟ مولویوں کے اختلاف کو بہانہ بنانے والے نماز، روزہ تک کی پابندی نہیں کرتے، اور زکوٰۃ فرض ہوتے ہوئے زکوٰۃ نہیں دیتے، ہزاروں روپے دبائے پڑے ہیں حج کو نہیں جاتے، بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہیں جن کے گناہ ہونے میں کسی کااختلاف نہیں۔ اگر مولویوں کااختلاف آپ کے لیے باعثِ بے عملی ہے تو جن اعمال کے فرض اور واجب ہونے میں سب کا اتفاق ہے ان پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ اور جن چیزوں کے گناہ ہونے میں سب کااتفاق ہے ان کو کیوں نہیں چھوڑتے؟مسائل ِضروریہ میں عُلَما کااختلاف نہیں : پھر مولویوں کاجن چیزوں میں اختلاف ہے وہ ان مسائل ِضروریہ میں نہیں