دوڑے تو سب سے آگے وہی اونٹ تھا جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔ اور جب دوسرے قافلہ والوں نے ان کے مکہ آنے کے بعد پوچھا (جن کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا اونٹ بھا گ گیا ہے، تو انہوں نے کہا: محمد (ﷺ) نے واقعی صحیح فرمایا۔ اس وادی میں ہمارا اونٹ بھا گ گیا تھا۔ ہم نے ایک شخص کی آواز سنی جو ہمیں اونٹ کے بارے میں بتا رہا تھا یہاں تک کہ ہم نے اونٹ کوپکڑ لیا ۔ ( سیرۃ ابن ہشام)
بیہقی کی روایت میں ہے کہ لوگوں نے آپ ﷺ سے نشانی کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے ان کو بدھ کے دن قافلہ آنے کی خبردی۔ جب بدھ کا دن آیا تو قافلہ نہ پہنچا یہاں تک کہ سورج غروب کے قریب پہنچ گیا۔آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی تو سورج غروب نہ ہوا ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ قافلہ پہنچ گیا ۔
فائدہ : ان روایات سے چند امور ثابت ہوتے ہیں۔
۱۔ عشاء اور فجر کے درمیان معراج کا مکمل سفرختم ہوگیا ۔ اور عشاء کی نماز گوا س وقت فرض نہ تھی ، مگر آپ ﷺ پڑھا کرتے ہوں گے ۔اور دوسرے مسلمان بھی آپ ﷺ کے ساتھ پڑھ لیتے ہوں گے ۔ فجر کی یہ نماز اگرچہ معراج کے بعد تھی مگر احادیث سے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی پہلی امامت ظہر کی نمازکے وقت ثابت ہوتی ہے تو غالباً نماز کی فرضیت کی ابتداء ظہر کے وقت سے ہوگی ۔ بیت المقدس میں