جونماز پڑھی اس کے متعلق بعض روایات میں آیا ہے حانت الصلوٰۃ ۔ اس سے عشاء کی نماز مراد لینا مشکل ہے ۔ کیونکہ نمازِ عشاء آپ ﷺ پڑھ چکے تھے توغالباً یہ تہجد کی نماز ہوگی۔ جو آپ ﷺ پر ایک زمانہ تک فرائض کی طرح ضروری رہی اور اذان اسی تہجد کے لئے دی گئی ہوگی جیسا کہ رمضان المبارک میںتہجد کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ثابت ہے ۔
۲۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معراج جسمانی تھی ورنہ لوگ اسے نہ جھٹلاتے۔ اس طرح اگر معراج روحانی ہوتی توآپ ﷺ فرما دیتے کہ یہ معراج جسمانی نہیں ہے بلکہ روحانی اور نیند کی حالت میں ہے کہ نیند کی حالت میں اس طرح کا خواب دیکھنا کوئی خلافِ عقل نہیں ۔
۳۔ سیرۃ ابن ہشام میں جن قافلوں کا ذکر ہے بہ ظاہر وہ دونوں الگ الگ ہیں ۔ اور بیہقی کی روایت میں جس قافلہ کا ذکر ہے کہ وہ آیا نہ تھا، یہ الگ قافلہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ان دونوں میں سے ایک قافلہ مکہ پہنچ گیا تھا، اوردوسرا تنعیم کے مقام پر ملا، اور تیسرے کے متعلق یہ ہے کہ وہ شام تک نہ آیاتھا اوراس کے آنے تک سورج رُ ک گیاتھا ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان دونوں کے علاوہ تیسراقافلہ تھا۔ مواہب میں بغیر سند کے دونوں قصے ( یعنی اونٹ کے بھاگنے اور خاکی اونٹ کے آگے چلنے کے) ایک ہی قافلہ کی طرف منسوب ہیں تو غالباً ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں قافلے ایک