انبیا ء علیہم السلام (اپنی سواریاں) باندھاکرتے تھے (۱) اور حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بیت المقدس میں موجود پتھر میں انگلی سے سوراخ کر کے اس سے براق کو باندھا۔(۲)
فائدہ: دونوں روایتیں اس طرح جمع ہوسکتی ہیں کہ وہ حلقہ تو پرانے زمانے سے ہو لیکن کسی وجہ سے بند ہو گیا ہو، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے انگلی سے کھول دیا ہو اور آپ ﷺ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام دونوں نے مل کر سواری کو باندھا ہو۔
اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ باندھنے کی کیا ضرورت تھی ؟کیونکہ وہ تو مسخر کر کے بھیجا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ اس عالم میں آنے سے اس میں یہاں کے کچھ اثرات پیدا ہوگئے ہوںاور اگر بھاگنے کا اندیشہ نہ بھی ہو، تب بھی اس کی شوخی وغیرہ سے آپ ﷺ کے دل کے پریشان ہونے کا احتمال تھا (لہٰذا اسے باندھ دیا گیا ) باقی اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کا احاطہ کون کرسکتا ہے ( اس کی اصل حکمت تواللہ ہی جانتے ہیں) ۔
آٹھواں واقعہ:باب محمدﷺ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ بیت المقدس میں اس مقام پر پہنچے جس کا نام’’ باب محمدﷺ‘‘ ہے تو براق باندھ کر آپ ﷺ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام دونوں مسجد کے صحن میں پہنچے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا:یا محمدﷺ! کیا آپ نے اپنے رب سے درخواست کی تھی کہ آپ کو جنت کی