پھر آپ ﷺ کے پاس ایک سفید رنگ کا جانور براق لایا گیا ، جو گدھے سے ذرا بڑا خچر سے ذرا چھوٹا تھااور وہ اس قدر تیزرفتار تھا کہ جہاں تک نظر جاتی وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا تھا ، اس قدر برق رفتار کہ اپنے منتہائے نظر پر قدم رکھتا تھا (۴) اور اس پر زین ولگام بھی تھی ، جب آپ ﷺ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ شوخی کرنے لگا ، حضرت جبرئل علیہ السلام نے اس سے کہا تجھ کو کیا ہوا اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ ﷺ سے زیادہ عزت والا کوئی شخص تجھ پر سوار نہیں ہوا ، بس وہ (شرمندگی) سے پسینہ پسینہ ہوگیا (اور اس کی ساری شوخی ختم ہوگئی) (۵) آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کیلئے رکاب پکڑی اور حضرت میکائیل علیہ السلام نے لگام تھامی ۔(۶)
(۱)فتح الباری ۔(۲) ابن ابی حمزہ (۳) النووی ۔(۴) مسلم ۔ (۵) الترمذی۔(۶)شرف المصطفی
فائدہ: براق کی شوخی غصّہ کی وجہ سے نہ تھی بلکہ خوشی کی وجہ سے تھی۔ پھر جب آپ ﷺ کے مرتبہ کا استحضار ہوا تو اسے تنبیہ ہوئی اور ا س نے شرمندہ ہوکر ہلنا بند کر دیا۔
جیسے ایک بار حضور پہاڑ پر تشریف فرماتھے اس کو حرکت ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ اثبت فانما علیک نبی وصدیق وشھیدان ‘‘ ٹھہر جا تجھ پر ایک نبی، ایک