اس آرڈیننس کے تحت سب پاکستان پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ میں بھی ترمیم کر دی گئی ہے۔جس کی رو سے صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ ایسے پریس کو بند کر دے جو تعزیرات پاکستان کی اس نئی اضافہ شدہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی کتاب یا اخبار چھاپتا ہے۔اس اخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کردے جومتذکرہ دفعہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ہر اس کتاب یااخبار پرقبضہ کرلے جس کی چھپائی یااشاعت پراس دفعہ کی رو سے پابندی ہے۔
آرڈیننس فوری طور پرنافذ العمل ہے۔آرڈیننس کا متن مندرجہ ذیل ہے:
آرڈیننس نمبر۲۰مجریہ ۱۹۸۴ء
قادیانی گروپ،لاہوری گروپ اوراحمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کاآرڈیننس!
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اوراحمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے…اورچونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالت موجود ہے جن کی بناء پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہوگیاہے…لہٰذا اب ۵؍جولائی ۱۹۷۷ء کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اورجاری کیاہے۔
حصہ اول
ابتدائیہ…مختصر عنوان اورآغاز نفاذ
۱… یہ آرڈیننس قادیانی گروپ ،لاہوری گروپ اوراحمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں (امتناع وتعزیر) آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے نام سے موسوم ہوگا۔
۲… یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
آرڈیننس عدالتوں کے احکام اورفیصلوں پرغالب ہوگا
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔