حقوق وخدمتِ خلق
ادب(۱۴۰): ماں باپ کی خدمت کرو، گو وہ کافر ہی ہوں، اور ان کی اطاعت بھی کرو جب تک کہ خدا و رسول کے خلاف نہ کہیں۔
ادب(۱۴۱): کسی کے ماں باپ کو برا کہنا جس کے جواب میں وہ اس کے ماں باپ کو برا کہے گویا خود اپنے ماں باپ کو برا کہنا ہے۔
ادب(۱۴۲): والدین کی خدمت کا یہ بھی تتمہ سمجھنا چاہئے کہ بعد ان کے انتقال کے ان کے ملنے والوں سے سلوک واحسان کیا جائے۔
ادب(۱۴۳): اعزہ واقارب سے سلوک کرو اگرچہ وہ تم سے بدسلوکی کریں۔
ادب(۱۴۴): ادائے حقوق کیلئے اپنے سلسلۂ قرابت کی تحقیق کرلو۔
ادب(۱۴۵): خالہ کا حق بھی مثل ماں کے ہے۔
ادب(۱۴۶): اگر ماں باپ ناخوش مر گئے ہوں تو ان کے لئے ہمیشہ دعا واستغفار کرتے رہو۔ اﷲ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان کو رضامند کردیں گے۔
ادب(۱۴۷): چچا کا حق مثل باپ کے ہے۔
ادب(۱۴۸): بڑے بھائی کا حق مثل باپ کے ہے۔
---------------
{۱۴۱} من الکبائر شتم الرجل والدیہ قالوا یا رسول اﷲ وہل یشتم الرجل والدیہ قال نعم یسب ابا الرجل فیسب اباہ و یسب امہ فیسب امہ۱۲ مسلم{۱۴۲} ان من ابر البر صلۃ الرجل اہل ود ابیہ بعد ان یولی۱۲مسلم {۱۴۳} لیس الواصل بالمکافیٔ ولکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہ وصلھا۱۲ بخاری {۱۴۴} تعلموا من انسابکم ما تصلون بہ ارحامکم۱۲ ترمذی {۱۴۵} قال وہل لک من خالۃ؟ قال نعم قال فبرھا۱۲ ترمذی {۱۴۶} ان العبد لیموت والداہ او احدہما وانہ لہما لعاق فلایزال یدعو لہما ویستغفر لہما حتی یکتبہ اﷲ بارا۱۲بیہقی {۱۴۷} عم الرجل صنو ابیہ۱۲متفق علیہ {۱۴۸} حق کبیر الاخوۃ علی صغیرہم حق الوالد علی ولدہ۱۲ بیہقی {۱۴۹} من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیٰمۃ انا وہو ہکذا وضم اصابعہ۱۲ مسلم {۱۵۰} الساعی علی الارملۃ والمسکین کالساعی فی سبیل اﷲ۱۲ متفق علیہ {۱۵۱} انا وکافل الیتیم لہ ولغیرہ فی الجنۃ ہکذا واشار بالسبابۃ والوسطی وفرج بینہما شیئا۱۲ بخاری