نہ رکھے، صوفیان جاہل اور جاہلان عابد اور علماء زاہدان خشک اور جو محدثین اہل فقہ سے عداوت رکھیں، اور جو لوگ کلام معقول میں انہماک رکھتے ہیں ان سب کی صحبت سے بچے۔ ایسے شخص کے پاس بیٹھے جو عالم وصوفی ہو، دنیا کا تارک ، ذاکر اﷲ واتباع سنت کا عاشق ، اور مذاہب میں ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دے کہ حنفیوں کا مذہب سب سے اچھا ہے یا شافعیہ کا سب سے بڑھ کر ہے، اپنے مذہب پر عمل کرتا رہے، نہ صوفیوں کے طریق میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دے کہ چشتیہ کی نسبت بڑے زور کی ہے،یا دوسرا کہے کہ نقشبندیوں میں اتباع سنت زیادہ ہے، اور اسی قسم کے خرافات سے بچے۔ وہ لوگ مغلوب الحال ہیں یا کسی تاویل سے کوئی امر کرتے ہیں جو اس شخص کے نزدیک خلافِ سنت ہے، ان کو برا بھلا نہ کہے اور خود وہی کرے جو قواعد شرعیہ کے موافق ہے۔
فصل: اس میں حضرت سیدنا و مرشدنا الشیخ الحافظ الحاج محمد امداد اﷲصاحب کی وصایا کا خلاصہ لکھ کر رسالۂ ہذا کو ختم کرتا ہوں۔ اس کو آخر میں اسی واسطے لکھا کہ خاتمہ میں برکت ہو ورنہ میرا حق یہ تھا کہ اس کو سب سے مقدم کرتا ؎ وللناس فیما یعشقون مذاہب
طالب حق پر لازم ہے کہ اوّل مسائل ضروری و عقائد اہل سنت وجماعت کے حاصل کرے۔ پھر ان مسائل سے تزکیہ کرے۱؎، حرص، امل، غضب، جھوٹ، غیبت، بخل، حسد، ریا، تکبر، کینہ۔ اور یہ اخلاق پیدا کرے: صبر، شکر، قناعت، علم، یقین، تفویض، توکل، رضا، تسلیم۔ اور شرع کا پابند رہے، اور اگر گناہ ہوجاوے جلدی کر کے نیک عمل سے تدارک کرے، نماز باجماعت وقت پر پڑھے، کسی وقت یاد الٰہی سے غافل نہ ہو، لذت ذکر پر شکر بجا لاوے، کشف وکرامات کا طالب نہ ہو، اپنا حال یا سخن تصوف غیر محرم سے نہ کہے، دنیا ومافیہا کو دل سے ترک کر دے، خلاف شرع فقراء کی صحبت سے بچے، لوگوں سے بقدر ضرورت خلق کے ساتھ ملے، اپنے کو سب سے کمتر جانے، کسی پر اعتراض نہ کرے، بات نرمی سے کرے، سکوت و خلوت کو محبوب رکھے، اوقات منضبط رکھے، تشویش
-----------
۱؎ خواہ صحبت علماء سے ، خواہ کتابوں سے۔ اور اگر زیادہ استعداد نہ ہو تو کتب ذیل کو اکثر اوقات مطالعہ میں رکھے: موضح القرآن ترجمہ قرآن مجید از شاہ عبد القادر صاحبؒ، تحفۃ الاخیار ترجمہ مشارق الانوار، شرح وقایہ اردو، مالابدمنہ، پند نامہ شیخ فرید الدین عطار، اکسیر ہدایت، ترجمہ اردو کیمیائے سعادت، گلزار ابراہیم، جہاد اکبر، تحفۃ العشاق، غذائے روح، ارشاد مرشد، اور ان کتابوں کو سفر میں ہمراہ رکھے۔۱۲