ادب(۳۴): اگر تانا ریشم کا اور بانا سوت کا ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔
ادب(۳۵): مرد کو سونے کی انگشتری پہننا حرام ہے۔ البتہ چاندی کی انگشتری کا مضائقہ نہیں مگر ساڑھے چار ماشہ سے کم ہونا چاہئے۔
ادب(۳۶): بجتا زیور جیسے گھنگر و وغیرہ پہننا ممنوع ہے۔
ادب(۳۷): جوتے کئی کئی جوڑے رکھا کرو۔ اس میں بہت سی مصلحتیںہیں۔ داہنے پاؤں میں اوّل پہنو اور اتارنے میں پہلے بائیں سے اتارو۔
ادب(۳۸): جوتا پہننے میں اگر ہاتھ سے کام لینا پڑے مثلاً تنگ ہے یا تسمہ وغیرہ باندھنا ہے تو کھڑے ہو کر مت پہنو۔
ادب(۳۹): جہاں جوتہ چوری ہو جانے کا ڈر ہو تو اٹھا کر اپنے پاس رکھو۔
ادب(۴۰): یہ چیزیں فطرت سلیمہ کا مقتضا ہیں: ختنہ کرنا، زیرناف کے بال لینا، لبیں کٹانا، ناخن کٹانا، بغل کے بال لینا، اور چالیس روزے سے زیادہ بال و ناخن چھوڑنے کی اجازت نہیں۔
--------------
{۳۶} عن ابن الزبیر ان مولاۃ لہم ذہبت بابنۃ الزبیر الی عمر بن الخطاب وفی رجلہا اجراس فقطعہا عمر وقال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مع کل جرس شیطان۱۲ ابوداو‘د {۳۷} استکثروا من النعال۱۲ مسلم۔ اذا انتعل احدکم فلیبدأ بالیمنی واذا نزع فلیبدأ بالشمال۱۲ متفق علیہ{۳۸} نہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان یتنعل الرجل قائما۱۲ ابوداو‘د {۳۹} عن ابن عباس قال من السنۃ اذا جلس الرجل ان یخلع نعلیہ فیضعہما بجنبہ۱۲ ابوداو‘د {۴۰} الفطرۃ خمس الختان والاستحداد وقص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط۱۲ متفق علیہ۔ عن انس قال وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط وحلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ۱۲مسلم {۴۱} وعن جابر قال اتی بابی قحافۃ یوم فتح مکۃ ورأسہ ولحیتہ کالثغامۃ بیاضا فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم : غیروا ھذا بشیء واجتنبوا السواد۱۲ مسلم {۴۲} لعن اﷲ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال۱۲ بخاری {۴۳} لعن اﷲ الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمۃ والمستوشمۃ۱۲ متفق علیہ {۴۴} عن علی قال نہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عن لبس القسی والمعصفر۱۲ مسلم۔ نہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ان یتزعفر الرجل۱۲ متفق علیہ