معاملہ(۷۹): اگر کسی جگہ ایک شخص پیغام نکاح بھیج چکا ہے جب تک اس کو جواب نہ مل جاوے یا وہ خود چھوڑ بیٹھے تم پیغام مت دو۔
معاملہ(۸۰): اگر کوئی شخص اپنا دوسرا نکاح کرنا چاہے تو اس عورت کو یااس کے ورثہ کو مناسب نہیں کہ شوہر سے شرط ٹھہرائیں کہ پہلی منکوحہ کو طلاق دے دے جب نکاح کیا جاوے گا۔ اپنی تقدیر پر قانع رہنا چاہئے۔
معاملہ(۸۱): نکاح مسجد میں ہونا بہتر ہے تاکہ اعلان بھی خوب ہو اور جگہ بھی برکت کی ہے۔
معاملہ(۸۲):رضاع میں بڑی احتیاط درکار ہے۔ بدون تحقیق علاقہ رضاع روبرو نہ آجاوے۔ اور جہاں شبہ وشک شرکت رضاع کا بھی ہے نکاح نہ کرے۔
معاملہ(۸۳): میاں بی بی کے باہمی معاملات خلوت کا دوست احباب سے یا ساتھیوں ، سہیلیوں سے ذکر کرنا خدائے تعالیٰ کو نہایت ناپسند ہے۔ اکثر دولہا دلہن اس کی پروا نہیں کرتے۔
معاملہ(۸۴): ولیمہ مستحب ہے مگر اس میں تکلف وتفاخر نہ کرے۔ حضور سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک بی بی کا ولیمہ دوسیر جَو سے کیا۔ حضرت صفیہؓ کے ولیمہ میں خرما اور پنیر اور گھی کا مالیدہ تھا۔ اور سب سے بڑا ولیمہ حضرت زینب ؓ کا تھا کہ ایک بکری ذبح ہوئی۔ اور گوشت روٹی لوگوں کو پیٹ بھر کے کھلائی گئی۔
معاملہ(۸۵): اگر کئی بیبیاں ہوں سب کو برابر رکھے ۔
---------------
{۷۹} لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ حتی ینکح او یترک۱۲ متفق علیہ {۸۰}لا تسأل المرأۃ طلاق اختہا لتستفرغ صحفتہا ولتنکح فان لہا ما قدر لہا۱۲ متفق علیہ {۸۱} اعلنوا ہذا النکاح واجعلوہ فی المساجد واضربوا علیہ بالدفوف۱۲ ترمذی {۸۲} انظرن من اخوانکن۱۲ متفق علیہ۔ کیف وقد قیل۱۲ بخاری {۸۳} ان من اشر الناس عند اﷲ منزلۃ یوم القیٰمۃ الرجلَ یفضی الی امرأتہ وتفضی الیہ ثم ینشر سرھا۱۲ مسلم {۸۴}أولم ولو بشاۃ۱۲ متفق علیہ۔ نہی عن طعام المتبارئین ان یؤکل ۱۲ابوداو‘د۔ اولم النبی صلی اﷲ علیہ علی بعض نسائہ بمدین من شعیر۱۲ بخاری۔ امر بالانطاع فبسطت فالقی علیہا التمر والاقط والسمن۱۲ بخاری۔ ما اولم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم علی احد من نسائہ ما اولم علی زینب اولم بشاۃ۱۲ متفق علیہ ۔ فاشبع الناس خبزا ولحما۱۲ بخاری{۸۵} اذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینہا جاء یوم القیٰمۃ وشقہ ساقط۱۲ ترمذی