طرح عورت کو دوسری عورت کا بدن ناف سے گھٹنے تک دیکھنا گناہ ہے۔ اکثر عورتیں اس کی احتیاط نہیں رکھتیں۔
معاملہ(۷۳): کسی عورت پر اچانک نگاہ پڑ جائے فوراً نگاہ ادھر سے پھیر لو اور اگر اس کا خیال کچھ دل میں رہے تو اپنی بی بی سے فراغت کرلینا چاہئے اس سے وہ وسوسہ دور ہوجاتا ہے۔
معاملہ(۷۴):اگر کسی عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو تو اگر بن پڑے تو اس کو ایک نگاہ دیکھ لو۔ کبھی بعد نکاح کے اس کی صورت سے نفرت نہ ہو۔
معاملہ(۷۵): بغیر ضرورتِ شدیدہ پیشاب ،پائخانہ، مجامعت کے برہنہ مت ہو۔ فرشتوں سے اور اﷲ تعالیٰ سے شرم کرنا چاہئے۔
معاملہ(۷۶):تنہائی میں غیر عورت کے پاس بیٹھنا زہر قاتل ہے اور سخت گناہ ہے۔ اسی طرح اس کے ساتھ سفر کرنا بھی ممنوع ہے۔ آج کل پیروں اور رشتہ داروں سے اس کی بالکل احتیاط نہیں ہے۔ غیر عورت اس کو کہتے ہیں جس سے نکاح کبھی عمر بھر میں حلال ہوسکے۔
معاملہ(۷۷): بلا ضرورت عورت کے لئے منع ہے کہ غیر مرد کو دیکھے۔ اکثر عورتوں کو جھانکنے تاکنے کی عادت ہوتی ہے۔ بڑی واہیات بات ہے۔
معاملہ(۷۸): اولاد کا حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھو ،علم ولیاقت سکھلاؤ، جب جوان ہوجاوے نکاح کردو۔ ورنہ اگر اس سے کوئی گناہ ہوگیا تو اس کا وبال تمہاری گردن پر ہوگا۔ اکثر لوگ لڑکیوں کو بٹھلا رکھتے ہیں۔ بڑی بے احتیاطی ہے۔
-------------
{۷۳} عن جریر بن عبد اﷲ قال سئلت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم عن نظر الفجاء ۃ فامرنی ان اصرف بصری۱۲ مسلم۔ اذا احدکم اعجبتہ المرأۃ فوقعت فی قلبہ فلیعمد الی امرأتہ فلیواقعھا فان ذلک یرد ما فی نفسہ۱۲ مسلم {۷۴} اذا خطب احدکم المرأۃ فان استطاع ان ینظر الی مایدعوہ الی نکاحہا فلیفعل۱۲ ابوداو‘د {۷۵} ایاکم والتعری فان معکم من لایفارقکم الا عند الغائط وحین یفضی الرجل الی اہلہ فاستحیوہم واکرموہم۱۲ ترمذی۔ قال فاﷲ احق ان یستحیٰی منہ۱۲ ترمذی {۷۶} لایخلون رجل بامرأۃ الا کان ثالثہما الشیطان۱۲ ترمذی۔ ولاتسافرن امرأۃ الا ومعہا محرم۱۲ متفق علیہ{۷۷} أفعمیاوان انتما أ لستما تبصرانہ۱۲ ترمذی {۷۸} من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وأدبہ فاذا بلغ فلیزوجہ فان بلغ ولم یزوجہ فاصاب اثما فانما اثمہ علی ابیہ۱۲ بیہقی