کر مرے دل سے تو اے واحد دوئی کاحرف دور
دل میں اور آنکھوں میں بھر دے سر بسر وحدت کا نور
خواجہ عبد الواحد بن زید شاہ کے واسطے
کر عنایت مجھ کو توفیق حسن اے ذوالمنن
تاکہ ہوں سب کام میرے تیری رحمت سے حسن
شیخ حسن بصری امام اولیا کے واسطے
دور کر دل سے حجاب جہل و غفلت میرے رب
کھول دے دل میں در علم حقیقت میرے رب
ہادی عالم علی مشکل کشا۱؎ کے واسطے
کچھ نہیں مطلب دو عالم کے گل وگلزار سے
کر مشرف مجھ کو دیدار پر انوار سے
سرور عالم محمد مصطفی کے واسطے
آپڑا در پر ترے میں ہر طرف سے ہو کر ملول
کر تو ان ناموں کی برکت سے دعا میری قبول
یا الٰہی اپنی ذاتِ کبریا کے واسطے
ان بزرگوں کے تئیں یا رب غرض ہر کار میں
کر شفاعت کا وسیلہ اپنے تو دربار میں
مجھ ذلیل و خوار و مسکین و گدا کے واسطے
اس دوئی نے کر دیا ہے دور وحدت سے مجھے
کر دوئی کو دور، کر پُر نور وحدت سے مجھے
تا ہوں سب میرے عمل خالص رضا کے واسطے
کر دیا اس عقل نے بے عقل دیوانہ مجھے
کر ذرا اس ہوش سے بیہوش و مستانہ مجھے
یا رب اپنے عاشقان با وفا کے واسطے
کشمکش سے ناامیدی کی ہوا ہوں میں تباہ
دیکھ مت میرے عمل کر لطف پر اپنی نگاہ