خواجہ مودود چشتی پارسا کے واسطے
رحم کر مجھ پر تو اب چاہ ضلالت سے نکال
بخش عشق و معرفت کا مجھ کو یا رب ملک ومال
شاہ بویوسف شہ شاہ و گدا کے واسطے
مست اور بے خود بنا بوئے محمد سے مجھے
محترم کر خواری کوئے محمد سے مجھے
بومحمد محترم شاہ دلا کے واسطے
صدقے احمد کے یہی امید تیری ذات سے
کہ بدل کر دے عصیان کو حسنات سے
احمد ابدال چشتی باصفا کے واسطے
حد سے گزرا رنج و فرقت اب تو اے پروردگار
کر مری شام خزاں کو وصل سے روز بہار
شیخ ابو اسحاق شامی خوش ادا کے واسطے
شادی و غم سے دو عالم کی مجھے آزاد کر
اپنے درد و غم سے یارب دل کو میرے شاد کر
خواجہ ممشاد علوی بو العلا کے واسطے
ہے مرے تو پاس ہر دم لیک میں اندھا ہوں پر
بخش وہ نور ِ بصیرت جس سے تو آئے نظر
بوہبیرہ شاہ بصری پیشوا کے واسطے
عیش و عشرت کی دو عالم سے نہیں مطلب مجھے
چشم گریان سینہ بریاں کر عطا یا رب مجھے
شیخ حذیفہ مرعشی شاہ صفا کے واسطے
نے طلب شاہی کی نے خواہش گدائی کی مجھے
بخش اپنے در تلک طاقت رسائی کی مجھے
شیخ ابراہیم ادہم بادشاہ کے واسطے
راہزن میرے ہیں دو قزاق باگرزگراں
تو پہنچ فریاد کو میری کہیں اے مستعاں
شہ فضیل ابن عیاض اہل دعا کے واسطے
----------
۱؎ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا لقب تھا ’’حلال المشکلات‘‘ یعنی مشکل مسائل کو حل کرنے والے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے۔مصحح