یا رب اپنے رحم واحسان و عطا کے واسطے
چرخ عصیاں سر پہ ہے زیر قدم بحر الم
چار سو ہے فوج غم کر جلدی اب بہر کرم
کچھ رہائی کا سبب اس مبتلا کے واسطے
گرچہ میں بدکار و نالائق ہوں اے شاہ جہاں
پر ترے در کو بتا اب چھوڑ کر جاؤں کہاں
کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے
ہے عبادت کا سہارا عابدوں کے واسطے
اور تکیہ زہد کا ہے زاہدوں کے واسطے
ہے عصائے آہ مجھ بے دست و پا کے واسطے
نے فقیری چاہتا ہوں نے امیری کی طلب
نے عبادت نے زہد نے خواہش علم و ادب
دردِ دل پر چاہئے مجھ کو خدا کے واسطے
عقل و ہوش و فکر اور نعمائے دنیا بے شمار
کی عطا تو نے مجھے پر اب تو اے پروردگار
بخش وہ نعمت جو کام آوے سدا کے واسطے
گرچہ عالم میں الٰہی سعی میں بسیار کی
پر نہ کچھ تحفہ ملا لائق ترے دربار کی
جان و مال لایا ولے تجھ پر فدا کے واسطے
گرچہ یہ ہدیہ نہ میرا قابل منظور ہے
پر جو ہو مقبول کیا رحمت سے تیری دور ہے
کشتگان تیغ تسلیم و رضا کے واسطے
حد سے ابتر ہو گیا ہے حال مجھ ناشاد کا
کر مری امداد اﷲ وقت ہے امداد کا
اپنے لطف و رحمت بے انتہا کے واسطے
جس؎ نے یہ شجرہ دیا ہے جس نے یہ شجرہ لیا
جس نے یہ شجرہ لکھایا جس نے یہ شجرہ پڑھا
بخش دیجئے سب کو ان اہل صفا کے واسطے
؎ یہ مثلث مؤلف نے بڑھا دیا ہے۔