احمد عبد الحق شہ ملک و بقا کے واسطے
دین و دنیا کا نہیں درکار کچھ جاہ و جلال
ایک ذرّہ درد کا یا حق مرے دل میں تو ڈال
شہ جلال الدین کبیر الاولیاء کے واسطے
ہے مکدر ظلمتِ عصیاں سے میرا شمس دیں
کر منور نور سے عرفان کے میرا شمس دیں
شیخ شمس الدین ترک شمس الضحی کے واسطے
اے مرے اﷲ رکھ ہر وقت ہر لیل و نہار
عشق میں اپنے مجھے بے صبر و بے تاب و قرار
شیخ علاؤ الدین صابر با رضا کے واسطے
دے ملاحت مجھ کو رب نمکینیٔ ایمان سے
اور حلاوت بخش گنج شکر عرفان سے
شہ فرید الدین شکر گنج بقا کے واسطے
عشق کی رہ میں ہوئے جوں اولیا اکثر شہید
خنجر تسلیم سے اپنے مجھے بھی کر شہید
خواجہ قطب الدین مقتول دلا کے واسطے
بے ترے ہے نفس و شیطاں درپئے ایمان و دین
جلد ہو آکر مرا یا رب مددگار و معین
شہ معین الدین حبیب کبریا کے واسطے
یا الٰہی بخش ایسا بے خودی کا مجھ کو جام
جس سے اٹھ جائے پردہ شرم و حیا و ننگ و نام
خواجہ عثمان با شرم و حیا کے واسطے
دور کر مجھ سے غم موت و حیات مستعار
زندہ کرذکر شریعت حق سے اے پروردگار
شہ شریف زندنی با اتقیا کے واسطے
آتش شوق اس قدر دل میں مرے بھر اے ودود
ہر بن مو سے مرے نکلے تری الفت کا دود