دین و دنیا کی طلب عزت نہ سرداری مجھے
اپنے کوچے کی عطا کر ذلت و خواری مجھے
شاہ عزیز الدین عزیز دوسرا کے واسطے
دے مجھے عشق محمد اور محمدیوں میں گِن
ہو محمد ہی محمد ورد میرا رات دن
شہ محمد اور محمدی اتقیا کے واسطے
حبِ حق حبِ الٰہی حبِ مولا حبِ رب
الغرض کر دے مجھے محو محبت سب کا سب
شہ محب اﷲ شیخ با صفا کے واسطے
گرچہ میں غرق شقاوت ہوں سعادت سے بعید
پر توقع ہے کرے مجھ سے شقی کو تو سعید
بوسعید اسعد اہل ورا کے واسطے
قال ابتر حال ابتر سب مرے ابتر ہیں کام
لطف سے اپنے مرے کر ملک و دیں کا انتظام
شہ نظام الدین بلخی مقتدا کے واسطے
ہے یہی بس دین میرا اور یہی سب ملک ومال
یعنی اپنے عشق میں کر مجھ کو با جاہ وجلال
شہ جلال الدین جلیل اصفیا کے واسطے
حب دنیاوی سے کر کے پاک مجھ کو اے حبیب
اپنے باغ قدس کی کر سیر تو میرے نصیب
عبد قدوس شہِ قدس و صفا کے واسطے
کر معطر روح کو بوئے محمد سے مری
اور منور چشم کر روئے محمد سے مری
اے خدا ! شیخ محمد رہنما کے واسطے
کر عطا راہ شریعت روئے احمد سے مجھے
اور دکھا نور حقیقت خوئے احمد سے مجھے
شیخ عارف صاحب لطف و عطا کے واسطے
کھول دے راہ طریقت قلب پر یا حق مرے
کر تجلی حقیقت قلب پر یا حق مرے