اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت قبلہ و کعبہ کی ارشاد فرمودہ ایک مناجات جس میں بزرگوں کے توسل سے تمام خیر وسعادت طلب کی ہے اس کو آخر میں لگا دی جاوے۔ تاکہ اس کو شوق وذوق سے جناب الٰہی میں عرض کیا کریں۔ اور اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ بزرگوں کے توسل سے دعا جلد قبول ہوتی ہے، دوسرا فائدہ خاص حضرت صاحب کے متوسلین کے لئے یہ بھی ہے کہ ان کو اپنے سلسلے کا اتصال ہوجائے گا۔ وہو ہذا
شجرئہ پیران چشت اہلِ بہشت
حمد ہے سب تیری ذات کبریا کے واسطے
اور درود و نعت ختم الانبیاء کے واسطے
اور سب اصحاب و آلِ مصطفی کے واسطے
در بدر پھرتی ہے خلقت التجا کے واسطے
آسرا تیرا ہے پر مجھ بے نوا کے واسطے
رحم کر مجھ پر الٰہی اولیاء کے واسطے
ان بزرگوں کو شفیع لایا ہوں میں ہو کر ملول
کیجیویہ عرض میری ان کی برکت سے قبول
ہاتھ اٹھاؤں جب تیرے آگے دعا کے واسطے
پاک کر ظلمات عصیاں سے الٰہی دل مرا
کر منور نورِ عرفاں سے الٰہی دل مرا
حضرت نور محمد پُرضیا کے واسطے
ایسے مرنے پر کروں قربان یا رب لاکھ عید
اپنی تیغ عشق سے کر لے اگر مجھ کو شہید
حاجی عبد الرحیم اہل غزا کے واسطے
کر وہ پیدا درد و غم میرے دل افگار میں
بار پاؤں جس سے اے باری تری دربار میں
شیخ عبد الباری شہ بے ریا کے واسطے
شرک و عصیان و ضلالت سے بچاکر اے کریم
کر ہدایت مجھ کو تو راہِ صراطِ مستقیم
شاہ عبد الہادی پیر ہدا کے واسطے