کو دل میں نہ آنے دے، جو کچھ پیش آوے حق کی طرف سے سمجھے، غیر اﷲ کا خطرہ نہ آنے دے، دینی کاموں میں نفع پہنچاتا رہے، نیت خالص رکھے، خوردونوش میں اعتدال رہے، نہ اتنا زیادہ کھائے کہ کسل ہو اور نہ اس قدر کم کہ عبادت سے ضعف ہوجاوے، کسب حلال افضل ہے، اگر توکل کرے تو بھی مضائقہ نہیں بشرطیکہ کسی سے طمع نہ رکھے، نہ کسی سے امید و خوف کرے، حق تعالیٰ کی طلب میں بے چین رہے، نعمت پر شکر بجالاوے، فقر وفاقہ سے تنگدل نہ ہو، اپنے متعلقین سے نرمی برتے، ان کی خطا و قصور سے در گذر کرے، ان کا عذر قبول کرے، کسی کی غیبت و عیب جوئی نہ کرے، عیب پوشی کرے،اپنے عیوب کو پیش نظر رکھے، کسی سے تکرار نہ کرے، مہمان نواز و مسافر پرور رہے، غرباو مساکین، علماء وصلحا کی صحبت اختیار کرے، قناعت وایثار کی عادت رکھے، بھوک پیاس کو محبوب سمجھے، کم ہنسے ، زیادہ روئے، عذاب الٰہی اور اس کی بے نیازی سے لرزاں رہے، موت کا ہر وقت خیال رکھے، روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کر لیا کرے، نیکی پر شکر ،بدی پر توبہ کرے، صدقِ مقال، اکلِ حلال اپنا شعار بنائے، غیر مشروع مجلس میں نہ جاوے، رسوم جہل سے بچے، شرمگین، کم گو، کم رنج، اصلاح جو، نیکو کار، نیکورفتار، باوقار، بردبار رہے۔ ان صفات پر مغرور نہ ہو، اولیاء کے مزارات سے مستفید ہوتا رہے۔ گاہ گاہ عوام مسلمین کی قبور پر جا کر ایصال ثواب کرے۔ مرشد کا ادب اور فرمانبرداری کامل طور پر بجا لاوے اور ہمیشہ استقامت کی دعا کرے۔
الحمد ﷲ کہ ۲۷؍صفر پنج شنبہ ۱۳۱۵ھ وقت چاشت مقام کانپور مدرسہ جامع العلوم میں رسالہ ’’تعلیم الدین‘‘ اختتام کو پہنچا۔ یا الٰہی! اس کو قبول فرما کر اپنے بندوں کو نفع بخش ؎
نہ بہ نقش بستہ مشوشم ، نہ بحرف ساختہ سرخوشم
نفسے بیاد تو میکشم چہ عبارت و چہ معانیم
اس رسالہ میں جن امور کی تعلیم ہے ہر چند ان کی تحصیل میں سعی کرنا ضرور ہے مگر بدون امداد اﷲ تعالیٰ کے ظاہر ہے کہ سب ہیچ ہے، بقول مولانا ؎
ایں ہمہ گفتیم و لیک اندر پسیج
---------