……………………………………………
ـ اِبْتدائً؛ بَلْ وُضِعَ لِواحِدٍ) فَإن اشْتَھرَ فيْ الثانِيْ فـ’’مَنْقُوْلٌ‘‘، یُنْسبُ إِلَی النَّاقِلِ؛ وَإِلاَّ (إِنْ لمْ یَشْتَھِرْ فيْ الثَّانيْ) فـ’’حَقِیْقَۃٌ‘‘ وَ’’مَجَازٌ‘‘۔
تشریح: مذکورہ تقسیم ’’والمَوضُوعُ الخ‘‘ سے مصنف لفظ موضوع کی تقسیم فرماتے ہیں کہ، لفظ کی دو قسمیں ہیں : (۱)مرکب،(اِس کی وضاحت ’’متن وشرح میں بہ غرضِ مخصوص مستعمل الفاظ‘‘ کے ضمن میں آرہی ہے) (۲)مفرد۔ اِس کے بعد ’’مفردِ مطلق‘‘ کی تقسیم فرمائی کہ، اِس کی تین قسمیں ہیں : اسم، کلمہ (فعل)، ادات(حرف)۔ اب ’’مفردِ مطلق‘‘ کی تقسیمِ ثانی بیان کرتے ہیں ۔
عبارت سمجھنے سے پہلے دو باتیں بہ طورِ مقدمہ ذہن نشین فرمالیں : (۱) مفردِ مطلق، مطلق مفرد (۲) صنعتِ استخدام۔
مفردِ مطلق: وہ مفردہے جس کا تحقق اُس کے تمام افراد کے تحقق سے ہو، اور کسی بھی ایک فرد کے منتفی ہونے سے وہ مفرد منتفی ہو جائے، گویا لفظِ مفرد بول کر اُس کے جمیع اقسام مراد لینا۔
مطلق مفرد: وہ مفرد ہے جس کے افراد میں سے کسی بھی ایک فرد کے تحقق سے اُس کا تحقق ہو جائے، اور جب تک اُس کے جمیع افرادکا انتفاء نہ ہو تب تک وہ مفرد منتفی نہ ہو، یعنی مفرد بول کر مثلاً صرف اسم یا صرف فعل کو مراد لینا۔
صنعت استخدام: ہُو أنْ یُذکرَ لفظٌ بِمعنیً وَیُعادُ إلیہِ ضَمِیرٌ أوْ اشارۃٌ بِمَعنًی آخرَ، نحوُ: إِذا نَزَلَ السَّمائُ بِأَرْضِ قومٍ رَعَیْنَاہٗ وإنْ کانوْا غِضَاباً، (ذکر السَّمائَ أوّلاً بمعنیٰ المطرِ، وأعاد إلیہا الضمیر في قولہ ’’رعیناہ‘‘ بمعنی النبات)۔ (سفینۃ البلغاء :۱۱۹)
صنعتِ استخدام یہ ہے کہ، کسی لفظ کو ذکر کرنا یا کسی لفظ کی طرف اول مرتبہ ضمیر لوٹانا کسی ایک معنیٰ کی رعایت کرتے ہوئے، پھر دوبارہ اُس لفظ یا ضمیر کو کسی دوسرے معنیٰ کا لحاظ کرتے ہوئے ذکر کرنا۔ اب شارح کی تشریح ملاحظہ فرمائیں :
قولہ: (أَیضاً مفعولٌ مُطلقٌ) ((یہ ترکیب نحوی کی طرف اشارہ ہے)) لفظِ ایضاً عبارت میں مفعول مطلق واقع ہے۔ اور تقدیری عبارت نکالی (آضَ اَیْضاً بِمعنَی رَجعَ رُجوْعاً)۔
(وَفیہِ [اَيْ فِي أَیْضاً] اِشارۃٌ) سے بتایا کہ جس طرح تقسیم اول ’’مفردِ مطلق‘‘ کی تھی جس میں اسم، کلمہ اور ادات تینوں شامل تھے، اِس تقسیم میں بھی تینوں داخل ہیں ، گویا یہ تقسیم بھی مفرد مطلق کی ہے نہ کہ ’’مطلق مفرد (اسم)‘‘ کی، گویا یہاں مفرد کا معنیٔ مطابقی مراد ہے نہ کہ تضمنی، ((امورِ مشتبہ میں فرق))۔
((فِیہِ بَحْثٌ)) سے شارح نے اشارہ کیا ہے کہ: آنے والی تقسیم -علم، متواطی،اور مشکک- اگر مفردِ مطلق (اسم، کلمہ اور ادات) تینوں کی ہے، تو علم، متواطی اور مشکک ہونا تو صرف اسم ہی میں پایا جاتا ہے، فعل میں علمیت وغیرہ ہونا نہیں پایا جاتا۔
پھر شارح خود (تَاَمَّلْ فِیْہِ) لائے ہیں ۔ حاشیہ تحفۂ شاہ جہانی میں ’’محشی‘‘ فرماتے ہیں : فیہِ إِشارۃٌ إلَی أنَّ الفِعلَ أَیْضاً یَکونُ مُتَواطِیاً، وَمُشکِّکاً، وَمُشتَرَکاً، وَحقیقَۃً، وَمَجازاً۔ فإِنَّ (کلمۃ) ’’ذَھبَ‘‘ مُتَواطٍ، وَ(کلمۃ) ’’وَجَدَ‘‘ مُشَکِّکٌ، وَ’’ضَرَبَ‘‘، وَ’’صَلَّی‘‘ مَنْقُوْلٌ۔ الخ غ