دو فعل ایک جگہ جمع ہوں
قاعدہ۱-: اگر کسی موقع پر دو فعل ایک جگہ جمع ہوں جن میں پہلا فعل کان ہو اور دوسرا فعل ،فعلِ ماضی ہو تو وہ ماضی بعید(۱) ہوگا، [جیسے: کانَ نَصَرَ زیدٌ: زید نے مدد کی تھی]۔
قاعدہ۲-: اگر دوسرافعل، فعلِ مضارع ہو تو وہ ’’ماضی استمراری‘‘ ہوگا، [جیسے: کانَ یَنْصُرُ زیدٌ: زید مدد کرتا تھا]۔
قاعدہ۳-: اگر پہلا فعل أَخَذَ، جَعَلَ، طَفِقَ میں سے کوئی ہو،تو دوسرا فعل یقینا مضارع ہوگا جو پہلے والے فعل کی ضمیرسے حال واقع ہوگا، اور شَرَعَ یَفْعَلُ کَذَا کی تقدیری عبارت: شَرَعَ حَالَ کَوْنہِ فاَعِلاً لِذلِکَ الفَعْلِہوگی، جس کا ترجَمہ بہ زبانِ اردو یہ ہوگا:یہ کام کرنے لگا، جیسے: {وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ} (آدم وحوا اپنے بدن پر بہشت کے پتے سینے لگے)، یہی معنیٰ اُس وقت بھی کیا جاتا ہے جب کہ جَعَلَ یا أَخَذَ کا صلہ في آجائے۔ خوب سمجھ لو۔[جیسے: وأَخَذوْا فيْ العِمارۃِ: وہ لوگ آباد کاری کرنے لگے]۔
قاعدہ۴-: ہرفعلِ ما ضی جس کے بعد فعلِ مضارع آجائے تو یہ فعلِ مضارع ترکیب میں حال واقع ہوتا ہے(۲)، [جیسے: جَا.8ئَنِيْ زَیْدٌ یَرْکَبُ غُلاَمُہٗ]۔
فائدہ: جب ہماری نظر میں کوئی ایسا صیغہ آئے جو بہت سے معانی میں مشترک ہو، تو یقین کیجیے کہ ایک لفظِ مشترک کے جملہ معانی کو تو بہ یک وقت مراد نہیں لِیا جا سکتا(۳)؛ لہٰذا
(۱)ماضی مطلق پر جب ’’قَدْ‘‘ داخل ہوتو ماضی قریب، ’’لَیْتَمَا‘‘ داخل ہوتو ماضی تمنائی اور ’’لَعَلَّمَا‘‘ داخل ہوتو ماضی احتمالی ہوگی۔مصنف [جیسے: قد نصرَ، لیتَما نصرَ، لعلَّما نصَر]
(۲)یہ قاعدہ اصل نسخہ میں قواعدِ مہمہ کے ضمن میں تھا، بہ مناسَبتِ مقام تقدیم کی گئی ہے۔مرتب
(۳)کیا ایک ہی لفظِ مشترک کے دو معانی کو بہ یک وقت مراد لیا جاسکتا ہے، بہ ایں طور کہ دونوں معانی مراد بھی ہوں ، اور دونوں پر حکم کا مدار بھی ہو؟۔
احناف کے یہاں جائز نہیں ؛بلکہ غالب گمان سے کسی ایک معنیٰ کی تعیین کی جائے گی، جس کو ’’مؤوّل‘‘ کہا جاتا ہے،ہاں ! عموم مجاز کے طور پر سب معانی مراد لیے جاسکتے ہیں ، جیسے یعتنون عموم مجاز ہے، جب کہ حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ: اگر اُن دونوں معانی میں تضاد نہ ہوتواُن کو بہ یک وقت مراد لیا جاسکتا ہے،جیسے: {إنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ غ