Deobandi Books

انوار المطالع فی ھدایات المطالع

116 - 214
	ثانی عشر: دو مشتبہ (۱) امروں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا، یعنی بظاہر اگر دو 
                                              
ـلاأصحبُکَ ما قائماً دام زیدٌ۔ اِس پر شارحِ ابن عقیل فرماتے ہیں کہ: یہ توجیہ ٹھیک نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ مثال تو لاأصحبک ما زیداً کلمْتَ کی طرح ہے، اور یہ مثال بالکل جائز ہے؛ بلکہ صاحبِ الفیہؒ کی مراد مادام کی خبر کے نفسِ مادام پر تقدیم کے عدمِ جواز کو بتلانا ہے، مثلاً یہ کہنا: لا اصحبک قائماً مادام زیدٌ، اور یہ عبارت صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ مادام میں ’’ما‘‘ مصدریہ ہے، جس پر خبر کی تقدیم صحیح نہیں ہے۔ (شرح ابن عقیل:۲۳۵)
	(۱)حضرت مصنفؒ کے ذکر کردہ اصول بڑے دقیق اور انتہائی غامض ہیں ، جن کے لیے مثالوں کو بیان کرنا ضروری تھا؛ لیکن چوں کہ ہرہر قاعدہ کے بعد بہ غرضِ مثال طویل عبارت کو ذکر کرنا اور اُس کو سمجھانا طوالت کا سبب بن سکتا تھا؛ بنابریں معدودے چند جگہوں میں ایک ایک عبارت کو قدرے سمجھاتے ہوئے مکررقوس ((…)) کے درمیان ممثل لہ کی وضاحت کرنے کا التزام کیا گیا ہے، اور موقع بہ موقع قواعد کے بعد اُن مثالوں کی طرف اشارہ کر لیا گیا ہے؛ تاکہ قاعدہ واضح ہوجائے اور وہ قاعدے کے سمجھنے میں معین ثابت ہو۔ 
	اوپر ذکر کردہ قاعدہ کی مثال: جیسے: شرحِ تہذیب میں لفطِ موضوع کے بابت ذکر کیا ہے۔ 
	وہ لفظ جو کسی معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو، اور اُس لفظ کے جزء سے معنیٰ کے جزء پر دلالت کا ارادہ کیا جائے، تو وہ مرکب ہے؛ ورنہ تو مفرد ہے۔ پھر مرکب یا توتام ہوگا چاہے بہ صورتِ خبر ہو یا انشاء؛ یا ناقص ،چاہے تقییدی ہو یا غیر تقییدی۔ 
	(۱)لفظ مفرد اگر مستقل بالمعنیٰ ہو اور اپنی شکل کے ذریعے کسی ایک زمانے پر دلالت بھی کرتا ہو تو وہ فعل ہے، اوراگر زمانے پر دلالت نہ کرے تو وہ اسم ہے، اور اگر لفظِ مفرد مستقل بالمعنیٰ نہ ہو تو حرف ہے۔ 
	(۲)اِس کے بعد مصنفؒ نے لفظِ مفرد کی دوسری تقسیم بیان فرمائی، کہ لفظِ مفرد کے معنیٰ ایک ہے اور وضع کے اعتبار سے معیّن ہو تووہ ’’علم‘‘ ہے۔ اگر اس لفظِ مفرد کے معنیٰ کلی ہے جو اپنے تمام افراد پر یکساں طور پر صادق آتا ہے، تو اُسے ’’متواطی‘‘ کہتے ہیں ، اور اگر یکساں طور پر صادق نہ آئے تو ’’مشکک‘‘ ہے۔
	(۳)لفظِ مفرد کے معنیٰ زائد ہوں اور اُس لفظ کو ہر ایک معنیٰ کے لیے مستقلاً وضع کیا گیا ہوتو وہ ’’مشترک‘‘ ہے۔ اور اگر اس لفظ کی وضع تو ایک ہی معنیٰ کے لیے تھی؛ لیکن دوسرے معانی میں اُس کا استعمال ہونے لگا ہے تو دیکھو: اگر اُس نے اپنے معنیٔ موضوع لہ کو چھوڑ دیا ہے تو اُسے ’’منقول‘‘ کہتے ہیں ؛ ورنہ ’’حقیقت ومجاز‘‘ہے۔ اِس موقع پر آخری دو تقسیموں سے بحث ہے۔  
	و(اللفظ)الموضوعُ: إنْ قصدَ بجزء ہِ الدلالۃُ علی جزئِ معناہ ’’فمرکّبٌ‘‘: إما تامٌّ: خبرٌ أو انشاء؛ وإما ناقص، تقییدي أو غیرہ، وإلا فمفردٌ۔وہو: (أي المفرد) إن استقلَّ فمع الدلالۃِ بہیئتہ علی أحدِ الأزمنۃِ الثلاثۃِ ’’کلمۃٌ‘‘، وبدونہا ’’إسمٌ‘‘، وإلا فـ’’أداۃٌ‘‘۔
	وأَیْضاً إِن اتَّحدَ (وَحُدَ) مَعناہٗ (المَوضُوعُ لہٗ)، فَمَعَ تَشَخُّصِہِ (جزئیَّتِہِ) وَضعاً علمٌ، وَبدوْنِہِ(بِدونِ تَشخُّصِہِ وَضْعاً)، مُتَواطٍ إِنْ تَسَاوَتْ أَفرادُہٗ، وَمُشکِّکٌ إِنْ َتفاوَتَتْ بِأَوَّلیَّۃٍ أَوْ أَوْلَوِیَّۃٍ۔
	وَإِنْ کثُرَ( مَعناہٗ المُستَعمَلُ فِیْہِ)، فَإِنْ وُضِعَ لِکلٍ اِبْتِدائً فَــ’’مُشْتَرَکٌ؛ وَاِلاَّ (وَإِنْ لمْ یُوضَعْ لِکلٍّغ


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 أنْوَارُ المَطَالِعْ 1 1
3 جملہ حقوق بحقِ ناشر محفوظ ہیں 2 2
4 مطالعۂ کتب کے راہ نُما اصول 3 2
5 فہرست مضامین 5 2
6 کلمات توثیق ودعا 15 2
7 تقریظ حضرت الاستاذ مولانا قاری عبدالستار صاحب (استاذ حدیث وقراء ت دارالعلوم وڈالی) 17 2
8 مقدمہ 19 2
9 کام کی نوعیت اور کتاب میں رعایت کردہ اُمور 21 8
10 ایک نظر یہاں بھی 22 8
11 مصنف کا مختصر تعارف 22 8
12 مصنفؒ کی دیگر تصانیف 23 8
13 وقت باری تعالیٰ کا ایک قیمتی تحفہ 24 8
14 نظام الاوقات 25 8
15 احتساب 25 8
16 کیا آپ بھی کچھ بننا چاہتے ہیں ؟ 26 8
17 طالب کا کردار، اقوالِ اکابر کی روشنی میں 28 8
18 عُلما، طلبا اور حُفاظ کی فضیلت 29 8
19 حفظِ متون 39 8
20 ملکۂ تحریر پیدا کرنے کا نسخہ 39 8
21 فوائد ثمینہ 39 8
22 پیش لفظ(از مؤلف) 43 2
24 القِسْمُ الأوّلُ في مُطالَعۃِ المُبتدِئیْنَ 47 1
25 معرب،مبنی 52 24
26 منصرف،غیر منصرف 52 24
27 معرفہ، نکرہ 56 24
28 مذکر، مؤنث 57 24
29 واحد، تثنیہ، جمع 59 24
30 [اعرابِ اسمائے متمکنہ] 61 24
31 عَناوین کے اعراب کی تعیین 63 24
32 ابتدائِ کلام میں واقع ہونے والے اسماء 65 24
33 درمیانی کلام میں واقع ہونے والا اسم اور اس کامابعد 66 24
34 تابع، متبوع کی تعیین 70 24
35 متعلقاتِ جملہ فعلیہ 74 24
36 تعیین اجزائِ جملہ فعلیہ 77 24
37 اجزاء جملہ فعلیہ واسمیہ کی شناخت 80 24
38 دو فعل ایک جگہ جمع ہوں 81 24
39 حروفِ معانی 82 24
40 قوانینِ مُہِمہْ 88 24
41 فوائد مختلفہ مہِمَّہ 90 24
42 کلماتِ ذو وجہین 90 24
43 مطالعۂ کتب کے بنیادی اصول 95 24
44 لغت دیکھنے کا طریقہ 96 24
45 القسمُ الثاني في مُطالعۃِ المتوسطِین 99 1
46 بسملہ و حمدلہ 101 45
47 تصلیہ: (صلاۃ علی النبي) 101 45
48 بوقت ابتدائے کتاب اسالیبِِ مصنفین 102 45
49 متن اور طرزِِ تحریر 106 45
50 شرح کی احتیاج اور اس کے دواعی 107 45
51 بہ وقتِ شرح رعایت کردہ اُمور 112 45
52 وہ امور جن کی بہ وقتِ شرح رعایت کی جاتی ہے 112 45
53 متن وشرح میں بہ غرضِ مخصوص مستعمل الفاظ 125 1
54 ماتن کی متانت 127 53
55 ماتن کا لفظِ ’’إعْلمْ‘‘اور اغراضِ ثلاثہ 130 53
56 شارح کی سخاوت 135 53
57 اسالیبِ شرح 135 53
58 فرائضِ شارحین 136 53
59 الفاظِ دفعِ وہم و اعتراض 138 53
60 مطالعۂ کتبِ عربیہ میں مُعِین ۳۸؍ ضروری قواعد وضوابط 143 53
61 وہ ضمائر جن کے مراجع بظاہر مذکور نہیں ہوتے 145 53
62 وجہِ تسمیہ، وجہِ عدول اور کلمۂ اِنَّمَا 147 53
63 شراح کا دلچسپ انداز استدلال اورکلماتِ جواب ودلیل 149 53
64 شرَّاح کا لفظِ ’’اِعلم‘‘ اور مقاصدِ اربعہ 158 53
65 طریقۂ استدلال اور مخالِفین پر رد 159 53
66 دورانِ شرح غیر کا قول نقل کرنے کی اَغراض 159 53
67 اجوبۂ مختلفہ اور اُن کی حیثیات 170 53
68 لفظِ ’’اَیْ‘‘ کا فلسفہ 174 53
69 فائدۂ نافعہ 182 53
70 شارحین کے مخصوص کلماتِ تعریض وکنایہ 184 53
71 عطف کا معیار، واؤ کی تعیین 188 53
72 خاتمۂ کتاب 193 1
73 مختصراً علم کی فضیلت 195 72
74 علوم وفنون کی اہمیت اور اُن میں آپسی ربط 196 72
75 علم المطالعہ کی اہمیت 197 72
77 ایک سچا طالبِ علم اور اُس کے صفات 198 72
78 آداب طالبِ علم 199 72
79 ایک کامیاب طالبِ علم 201 72
80 طریقۂ مطالعہ 203 72
81 ترقیم کے چند قواعد ورموز 207 72
82 رموز اوقاف 207 72
83 یومیہ محاسبہ 209 72
84 رموزِ عددی وکلماتِ مخففہ 210 72
85 کتاب کی فریاد اپنے حامِلین سے 211 72
86 اہم مآخذ ومراجع 212 72
Flag Counter