ثانی عشر: دو مشتبہ (۱) امروں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا، یعنی بظاہر اگر دو
ـلاأصحبُکَ ما قائماً دام زیدٌ۔ اِس پر شارحِ ابن عقیل فرماتے ہیں کہ: یہ توجیہ ٹھیک نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ مثال تو لاأصحبک ما زیداً کلمْتَ کی طرح ہے، اور یہ مثال بالکل جائز ہے؛ بلکہ صاحبِ الفیہؒ کی مراد مادام کی خبر کے نفسِ مادام پر تقدیم کے عدمِ جواز کو بتلانا ہے، مثلاً یہ کہنا: لا اصحبک قائماً مادام زیدٌ، اور یہ عبارت صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ مادام میں ’’ما‘‘ مصدریہ ہے، جس پر خبر کی تقدیم صحیح نہیں ہے۔ (شرح ابن عقیل:۲۳۵)
(۱)حضرت مصنفؒ کے ذکر کردہ اصول بڑے دقیق اور انتہائی غامض ہیں ، جن کے لیے مثالوں کو بیان کرنا ضروری تھا؛ لیکن چوں کہ ہرہر قاعدہ کے بعد بہ غرضِ مثال طویل عبارت کو ذکر کرنا اور اُس کو سمجھانا طوالت کا سبب بن سکتا تھا؛ بنابریں معدودے چند جگہوں میں ایک ایک عبارت کو قدرے سمجھاتے ہوئے مکررقوس ((…)) کے درمیان ممثل لہ کی وضاحت کرنے کا التزام کیا گیا ہے، اور موقع بہ موقع قواعد کے بعد اُن مثالوں کی طرف اشارہ کر لیا گیا ہے؛ تاکہ قاعدہ واضح ہوجائے اور وہ قاعدے کے سمجھنے میں معین ثابت ہو۔
اوپر ذکر کردہ قاعدہ کی مثال: جیسے: شرحِ تہذیب میں لفطِ موضوع کے بابت ذکر کیا ہے۔
وہ لفظ جو کسی معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو، اور اُس لفظ کے جزء سے معنیٰ کے جزء پر دلالت کا ارادہ کیا جائے، تو وہ مرکب ہے؛ ورنہ تو مفرد ہے۔ پھر مرکب یا توتام ہوگا چاہے بہ صورتِ خبر ہو یا انشاء؛ یا ناقص ،چاہے تقییدی ہو یا غیر تقییدی۔
(۱)لفظ مفرد اگر مستقل بالمعنیٰ ہو اور اپنی شکل کے ذریعے کسی ایک زمانے پر دلالت بھی کرتا ہو تو وہ فعل ہے، اوراگر زمانے پر دلالت نہ کرے تو وہ اسم ہے، اور اگر لفظِ مفرد مستقل بالمعنیٰ نہ ہو تو حرف ہے۔
(۲)اِس کے بعد مصنفؒ نے لفظِ مفرد کی دوسری تقسیم بیان فرمائی، کہ لفظِ مفرد کے معنیٰ ایک ہے اور وضع کے اعتبار سے معیّن ہو تووہ ’’علم‘‘ ہے۔ اگر اس لفظِ مفرد کے معنیٰ کلی ہے جو اپنے تمام افراد پر یکساں طور پر صادق آتا ہے، تو اُسے ’’متواطی‘‘ کہتے ہیں ، اور اگر یکساں طور پر صادق نہ آئے تو ’’مشکک‘‘ ہے۔
(۳)لفظِ مفرد کے معنیٰ زائد ہوں اور اُس لفظ کو ہر ایک معنیٰ کے لیے مستقلاً وضع کیا گیا ہوتو وہ ’’مشترک‘‘ ہے۔ اور اگر اس لفظ کی وضع تو ایک ہی معنیٰ کے لیے تھی؛ لیکن دوسرے معانی میں اُس کا استعمال ہونے لگا ہے تو دیکھو: اگر اُس نے اپنے معنیٔ موضوع لہ کو چھوڑ دیا ہے تو اُسے ’’منقول‘‘ کہتے ہیں ؛ ورنہ ’’حقیقت ومجاز‘‘ہے۔ اِس موقع پر آخری دو تقسیموں سے بحث ہے۔
و(اللفظ)الموضوعُ: إنْ قصدَ بجزء ہِ الدلالۃُ علی جزئِ معناہ ’’فمرکّبٌ‘‘: إما تامٌّ: خبرٌ أو انشاء؛ وإما ناقص، تقییدي أو غیرہ، وإلا فمفردٌ۔وہو: (أي المفرد) إن استقلَّ فمع الدلالۃِ بہیئتہ علی أحدِ الأزمنۃِ الثلاثۃِ ’’کلمۃٌ‘‘، وبدونہا ’’إسمٌ‘‘، وإلا فـ’’أداۃٌ‘‘۔
وأَیْضاً إِن اتَّحدَ (وَحُدَ) مَعناہٗ (المَوضُوعُ لہٗ)، فَمَعَ تَشَخُّصِہِ (جزئیَّتِہِ) وَضعاً علمٌ، وَبدوْنِہِ(بِدونِ تَشخُّصِہِ وَضْعاً)، مُتَواطٍ إِنْ تَسَاوَتْ أَفرادُہٗ، وَمُشکِّکٌ إِنْ َتفاوَتَتْ بِأَوَّلیَّۃٍ أَوْ أَوْلَوِیَّۃٍ۔
وَإِنْ کثُرَ( مَعناہٗ المُستَعمَلُ فِیْہِ)، فَإِنْ وُضِعَ لِکلٍ اِبْتِدائً فَــ’’مُشْتَرَکٌ؛ وَاِلاَّ (وَإِنْ لمْ یُوضَعْ لِکلٍّغ