Deobandi Books

انوار المطالع فی ھدایات المطالع

118 - 214
……………………………………………
                                              
ـگویا مطلق یہ کہنا کہ متواطی، مشکک؛ حقیقت ومجاز، ہونا صرف اسم ہی میں پایا جاتا ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اِس جگہ شارح نے ((دو مشتبہ امروں کی وضاحت)) کی ہے کہ، مطلق مفرد سے مراد اسم ہی ہے، اور اِس کو مراد لینے سے تقسیم عام ہوتی ہے؛ اِس لیے کہ علمیت اسم ہی میں پائی جاتی ہے نہ کہ فعل وحرف میں ، جب کہ مفرد مطلق مراد لینے سے یہ تینوں قسموں کو شامل ہوگا، تو تقسیم میں عموم باقی نہیں رہے گا؛ اِس لیے کہ وہ دونوں علم نہیں ہوتے؛ اِسی لیے یہاں مقسم مطلقِ مفرد ہے کہ مفردِ مطلق۔
	قولہ: إِنْ اِتَّحَدَ أيْ وَحُدَ سے اُس کا ((لغوی معنیٰ)) بتا یا کہ اتحاد کے دو معنیٰ ہیں : (۱)دو مغائر چیزوں کو ایک کرنا (۲) متصف بالوحدت یعنی اکیلا ہونا۔ اول معنیٰ یہاں ٹھیک نہیں ہے؛ کیوں کہ جب لفظ موضوع کا معنیٰ ہی ایک ہے تو اتحاد کیسے متصور ہوگا، بہ ایں وجہ شارح نے یہ واضح کیا کہ یہ اتحاد بہ معنیٰ متصف بالوحدت ہے، یعنی لفظِ موضوع اگر اکیلے معنیٰ پر دلالت کرے تو وہ ’’علم‘‘ ہے۔ اِس جگہ ((دو مشتبہ امروں کے درمیان فرق)) بیان کیا۔
	قولہ: وَضْعاً أيْ بِحسْبِ الوَضعِ سے اِس کی ((ترکیبی حیثیت)) واضح کی کہ، یہ لفظ ترکیب میں تمیز واقع ہے، ساتھ ہی دُوْنَ الاِسْتِعْمَالِ ذکر کرتے ہوئے شارح نے یہ واضح کیا کہ، وہ الفاظ جو بحسب الوضع عام ہیں اور بحسب الاستعمال خاص ہیں ، جیسے عام جزئیات: اسمائے اشارہ وغیرہ حضرت ماتن کے بہ قول علم (جزئی) کی تعریف میں داخل نہیں ہے کیوں کہ ہذا کامعنیٔ موضوع لہ کل مذکر قریب ہے؛ لیکن استعمال کے وقت معین شیٔ پر دلالت کرتا ہے ،تو چوں کہ اس میں وضعاً تشخص نہیں ہے؛ اِس لیے وہ تعریف سے نکل جائیں گے۔لأنَّہا مَوضُوعَۃٌ بِإِزائِ الجُزئیَّاتِ المُتعدَّدَۃِ بِلِحاظِ أَمرٍ کليٍ (بہ حوالہ حاشۂ تحفۂ شاہ جہانی) اِن کو نکالنے کی غرض سے حضرت ماتن نے وضعاً کی قید((فوائد قیود کی وضاحت)) بڑھائی ہے۔ 
	وَغرضُہٗ من قوْلہِ إنْ تَفاوَتَتْ بِأَوَّلِیَّۃٍ أَوْ أَوْلَوِیَّۃٍ مَثَلاً سے شارح پر ہونے والے اعتراض کو کہ کلی مشکک میں تفاوت چار قسموں پر ہے: اوّلیت، اولویّت، اشدّیت، اضعفیّت تو ماتن نے دو ہی قسموں کا تذکرہ کیوں کیا؟ اُس کو دفع کیا کہ: یہاں صرف مثال دینا مقصود ہے، مشکک کے مذکورہ دو قسموں میں انحصار کا دعویٰ مقصود نہیں ہے، ((اعتراضِ معترض کا جواب))۔
	م:وَاِنْ کَثُر ش: أَيْ اللفظُ إنْ کثُر  مَعناہٗ المُستعمَلُ ھوَ فیہِ… سے شارح ماتنِ علام کی ((ضمیر کا مرجع)) بیان کرتے ہیں ، جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ماتن نے  وَأَیضاً سے ’’مفردِ مطلق‘‘ کی معنیٔ موضوع لہٗ کے اعتبار سے تقسیم -علم، متواطی، مشکک- کو بیان کیا ہے، اِسی طرح  وَإِنْ کثرَ سے بھی اگر معنیٔ موضوع لہ کی تقسیم کرنا مراد ہے تو اُس وقت ترجَمہ یہ ہوگا: اگر کسی لفظ کے معانیٔ موضوعہ زیادہ ہوں …، اُس وقت یہ نقض ہوگا کہ: معنیٔ منقول الیہ اور معنیٔ مجازی، معانیٔ موضوعہ میں سے نہیں ہیں ۔ 
	بہ ایں وجہ شارح نے المُستعْمَلُ لہٗ کو ذکر کرکے واضح کیا کہ، یہ تقسیم لفظِ موضوع کی بہ اعتبار معنیٔ مستعمل فیہ کے ہے، نہ کہ معنیٔ موضوع لہ کے اعتبار سے ((مرجع کی وضاحت، رفعِ ابہام))، چناں چہ اِس میں لفظِ مشترک، مجاز ومنقول داخل ہوجائیں گے، نحوُ: الصَّلاۃُ، فيْ اللغۃِ الدُّعائُ، ونُقلَ فيْ الشَّرعِ إلَی أَرکانٍ مَعلومۃٍ، فہيَ ’’حَقیقۃٌ لغَویَّۃٌ‘‘ فيْ الدُّعائِ وَ’’مجازٌ‘‘ فيْ الارکانِ۔ وَ’’حقیقۃٌ شرعیۃٌ‘‘ فيْ الأرکانِ ’’مَجازٌ‘‘ فيْ الدُّعائِ، کمَا تقرَّرَ فيْ کتبِ الأُصوْلِ۔ (تفسیرات احمدیہ ص:۱۵)
	اب نقض ہوگا کہ: إِن اتَّحَدَ مَعْنَاہٗ  میں معنیٔ موضوع لہ مراد لیا ہے اور اِسی معنیٰ کی طرف وَإِنْ کَثُرَ کی ضمیر راجع ہے، اِس کی کیا توجیہ ہے؟ محشی فرماتے ہیں کہ: یہ صنعتِ استخدام کے قبیل سے ہے کہ پہلے لفظ ’’معناہ‘‘ سے معنیٔغ

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 أنْوَارُ المَطَالِعْ 1 1
3 جملہ حقوق بحقِ ناشر محفوظ ہیں 2 2
4 مطالعۂ کتب کے راہ نُما اصول 3 2
5 فہرست مضامین 5 2
6 کلمات توثیق ودعا 15 2
7 تقریظ حضرت الاستاذ مولانا قاری عبدالستار صاحب (استاذ حدیث وقراء ت دارالعلوم وڈالی) 17 2
8 مقدمہ 19 2
9 کام کی نوعیت اور کتاب میں رعایت کردہ اُمور 21 8
10 ایک نظر یہاں بھی 22 8
11 مصنف کا مختصر تعارف 22 8
12 مصنفؒ کی دیگر تصانیف 23 8
13 وقت باری تعالیٰ کا ایک قیمتی تحفہ 24 8
14 نظام الاوقات 25 8
15 احتساب 25 8
16 کیا آپ بھی کچھ بننا چاہتے ہیں ؟ 26 8
17 طالب کا کردار، اقوالِ اکابر کی روشنی میں 28 8
18 عُلما، طلبا اور حُفاظ کی فضیلت 29 8
19 حفظِ متون 39 8
20 ملکۂ تحریر پیدا کرنے کا نسخہ 39 8
21 فوائد ثمینہ 39 8
22 پیش لفظ(از مؤلف) 43 2
24 القِسْمُ الأوّلُ في مُطالَعۃِ المُبتدِئیْنَ 47 1
25 معرب،مبنی 52 24
26 منصرف،غیر منصرف 52 24
27 معرفہ، نکرہ 56 24
28 مذکر، مؤنث 57 24
29 واحد، تثنیہ، جمع 59 24
30 [اعرابِ اسمائے متمکنہ] 61 24
31 عَناوین کے اعراب کی تعیین 63 24
32 ابتدائِ کلام میں واقع ہونے والے اسماء 65 24
33 درمیانی کلام میں واقع ہونے والا اسم اور اس کامابعد 66 24
34 تابع، متبوع کی تعیین 70 24
35 متعلقاتِ جملہ فعلیہ 74 24
36 تعیین اجزائِ جملہ فعلیہ 77 24
37 اجزاء جملہ فعلیہ واسمیہ کی شناخت 80 24
38 دو فعل ایک جگہ جمع ہوں 81 24
39 حروفِ معانی 82 24
40 قوانینِ مُہِمہْ 88 24
41 فوائد مختلفہ مہِمَّہ 90 24
42 کلماتِ ذو وجہین 90 24
43 مطالعۂ کتب کے بنیادی اصول 95 24
44 لغت دیکھنے کا طریقہ 96 24
45 القسمُ الثاني في مُطالعۃِ المتوسطِین 99 1
46 بسملہ و حمدلہ 101 45
47 تصلیہ: (صلاۃ علی النبي) 101 45
48 بوقت ابتدائے کتاب اسالیبِِ مصنفین 102 45
49 متن اور طرزِِ تحریر 106 45
50 شرح کی احتیاج اور اس کے دواعی 107 45
51 بہ وقتِ شرح رعایت کردہ اُمور 112 45
52 وہ امور جن کی بہ وقتِ شرح رعایت کی جاتی ہے 112 45
53 متن وشرح میں بہ غرضِ مخصوص مستعمل الفاظ 125 1
54 ماتن کی متانت 127 53
55 ماتن کا لفظِ ’’إعْلمْ‘‘اور اغراضِ ثلاثہ 130 53
56 شارح کی سخاوت 135 53
57 اسالیبِ شرح 135 53
58 فرائضِ شارحین 136 53
59 الفاظِ دفعِ وہم و اعتراض 138 53
60 مطالعۂ کتبِ عربیہ میں مُعِین ۳۸؍ ضروری قواعد وضوابط 143 53
61 وہ ضمائر جن کے مراجع بظاہر مذکور نہیں ہوتے 145 53
62 وجہِ تسمیہ، وجہِ عدول اور کلمۂ اِنَّمَا 147 53
63 شراح کا دلچسپ انداز استدلال اورکلماتِ جواب ودلیل 149 53
64 شرَّاح کا لفظِ ’’اِعلم‘‘ اور مقاصدِ اربعہ 158 53
65 طریقۂ استدلال اور مخالِفین پر رد 159 53
66 دورانِ شرح غیر کا قول نقل کرنے کی اَغراض 159 53
67 اجوبۂ مختلفہ اور اُن کی حیثیات 170 53
68 لفظِ ’’اَیْ‘‘ کا فلسفہ 174 53
69 فائدۂ نافعہ 182 53
70 شارحین کے مخصوص کلماتِ تعریض وکنایہ 184 53
71 عطف کا معیار، واؤ کی تعیین 188 53
72 خاتمۂ کتاب 193 1
73 مختصراً علم کی فضیلت 195 72
74 علوم وفنون کی اہمیت اور اُن میں آپسی ربط 196 72
75 علم المطالعہ کی اہمیت 197 72
77 ایک سچا طالبِ علم اور اُس کے صفات 198 72
78 آداب طالبِ علم 199 72
79 ایک کامیاب طالبِ علم 201 72
80 طریقۂ مطالعہ 203 72
81 ترقیم کے چند قواعد ورموز 207 72
82 رموز اوقاف 207 72
83 یومیہ محاسبہ 209 72
84 رموزِ عددی وکلماتِ مخففہ 210 72
85 کتاب کی فریاد اپنے حامِلین سے 211 72
86 اہم مآخذ ومراجع 212 72
Flag Counter