……………………………………………
ـگویا مطلق یہ کہنا کہ متواطی، مشکک؛ حقیقت ومجاز، ہونا صرف اسم ہی میں پایا جاتا ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اِس جگہ شارح نے ((دو مشتبہ امروں کی وضاحت)) کی ہے کہ، مطلق مفرد سے مراد اسم ہی ہے، اور اِس کو مراد لینے سے تقسیم عام ہوتی ہے؛ اِس لیے کہ علمیت اسم ہی میں پائی جاتی ہے نہ کہ فعل وحرف میں ، جب کہ مفرد مطلق مراد لینے سے یہ تینوں قسموں کو شامل ہوگا، تو تقسیم میں عموم باقی نہیں رہے گا؛ اِس لیے کہ وہ دونوں علم نہیں ہوتے؛ اِسی لیے یہاں مقسم مطلقِ مفرد ہے کہ مفردِ مطلق۔
قولہ: إِنْ اِتَّحَدَ أيْ وَحُدَ سے اُس کا ((لغوی معنیٰ)) بتا یا کہ اتحاد کے دو معنیٰ ہیں : (۱)دو مغائر چیزوں کو ایک کرنا (۲) متصف بالوحدت یعنی اکیلا ہونا۔ اول معنیٰ یہاں ٹھیک نہیں ہے؛ کیوں کہ جب لفظ موضوع کا معنیٰ ہی ایک ہے تو اتحاد کیسے متصور ہوگا، بہ ایں وجہ شارح نے یہ واضح کیا کہ یہ اتحاد بہ معنیٰ متصف بالوحدت ہے، یعنی لفظِ موضوع اگر اکیلے معنیٰ پر دلالت کرے تو وہ ’’علم‘‘ ہے۔ اِس جگہ ((دو مشتبہ امروں کے درمیان فرق)) بیان کیا۔
قولہ: وَضْعاً أيْ بِحسْبِ الوَضعِ سے اِس کی ((ترکیبی حیثیت)) واضح کی کہ، یہ لفظ ترکیب میں تمیز واقع ہے، ساتھ ہی دُوْنَ الاِسْتِعْمَالِ ذکر کرتے ہوئے شارح نے یہ واضح کیا کہ، وہ الفاظ جو بحسب الوضع عام ہیں اور بحسب الاستعمال خاص ہیں ، جیسے عام جزئیات: اسمائے اشارہ وغیرہ حضرت ماتن کے بہ قول علم (جزئی) کی تعریف میں داخل نہیں ہے کیوں کہ ہذا کامعنیٔ موضوع لہ کل مذکر قریب ہے؛ لیکن استعمال کے وقت معین شیٔ پر دلالت کرتا ہے ،تو چوں کہ اس میں وضعاً تشخص نہیں ہے؛ اِس لیے وہ تعریف سے نکل جائیں گے۔لأنَّہا مَوضُوعَۃٌ بِإِزائِ الجُزئیَّاتِ المُتعدَّدَۃِ بِلِحاظِ أَمرٍ کليٍ (بہ حوالہ حاشۂ تحفۂ شاہ جہانی) اِن کو نکالنے کی غرض سے حضرت ماتن نے وضعاً کی قید((فوائد قیود کی وضاحت)) بڑھائی ہے۔
وَغرضُہٗ من قوْلہِ إنْ تَفاوَتَتْ بِأَوَّلِیَّۃٍ أَوْ أَوْلَوِیَّۃٍ مَثَلاً سے شارح پر ہونے والے اعتراض کو کہ کلی مشکک میں تفاوت چار قسموں پر ہے: اوّلیت، اولویّت، اشدّیت، اضعفیّت تو ماتن نے دو ہی قسموں کا تذکرہ کیوں کیا؟ اُس کو دفع کیا کہ: یہاں صرف مثال دینا مقصود ہے، مشکک کے مذکورہ دو قسموں میں انحصار کا دعویٰ مقصود نہیں ہے، ((اعتراضِ معترض کا جواب))۔
م:وَاِنْ کَثُر ش: أَيْ اللفظُ إنْ کثُر مَعناہٗ المُستعمَلُ ھوَ فیہِ… سے شارح ماتنِ علام کی ((ضمیر کا مرجع)) بیان کرتے ہیں ، جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ماتن نے وَأَیضاً سے ’’مفردِ مطلق‘‘ کی معنیٔ موضوع لہٗ کے اعتبار سے تقسیم -علم، متواطی، مشکک- کو بیان کیا ہے، اِسی طرح وَإِنْ کثرَ سے بھی اگر معنیٔ موضوع لہ کی تقسیم کرنا مراد ہے تو اُس وقت ترجَمہ یہ ہوگا: اگر کسی لفظ کے معانیٔ موضوعہ زیادہ ہوں …، اُس وقت یہ نقض ہوگا کہ: معنیٔ منقول الیہ اور معنیٔ مجازی، معانیٔ موضوعہ میں سے نہیں ہیں ۔
بہ ایں وجہ شارح نے المُستعْمَلُ لہٗ کو ذکر کرکے واضح کیا کہ، یہ تقسیم لفظِ موضوع کی بہ اعتبار معنیٔ مستعمل فیہ کے ہے، نہ کہ معنیٔ موضوع لہ کے اعتبار سے ((مرجع کی وضاحت، رفعِ ابہام))، چناں چہ اِس میں لفظِ مشترک، مجاز ومنقول داخل ہوجائیں گے، نحوُ: الصَّلاۃُ، فيْ اللغۃِ الدُّعائُ، ونُقلَ فيْ الشَّرعِ إلَی أَرکانٍ مَعلومۃٍ، فہيَ ’’حَقیقۃٌ لغَویَّۃٌ‘‘ فيْ الدُّعائِ وَ’’مجازٌ‘‘ فيْ الارکانِ۔ وَ’’حقیقۃٌ شرعیۃٌ‘‘ فيْ الأرکانِ ’’مَجازٌ‘‘ فيْ الدُّعائِ، کمَا تقرَّرَ فيْ کتبِ الأُصوْلِ۔ (تفسیرات احمدیہ ص:۱۵)
اب نقض ہوگا کہ: إِن اتَّحَدَ مَعْنَاہٗ میں معنیٔ موضوع لہ مراد لیا ہے اور اِسی معنیٰ کی طرف وَإِنْ کَثُرَ کی ضمیر راجع ہے، اِس کی کیا توجیہ ہے؟ محشی فرماتے ہیں کہ: یہ صنعتِ استخدام کے قبیل سے ہے کہ پہلے لفظ ’’معناہ‘‘ سے معنیٔغ