وضاحت کے ساتھ سمجھاکر مثالیں بیان کریں (۱)۔
حادی عشر: انتخاب توجیہات: یعنی جن بعض امور میں شُراح کا طرز مختلف رہا ہو، کہ بعضے حضرات الگ نوعیت سے شرح کرتے ہیں اور دُوسرے حضرات الگ۔ بہ الفاظِ دیگر توجیہات میں نِزاع ہو توشارح اِن میں سے بہتر توجیہ کو چھانٹ کر معین کرے(۲)۔
(۱)جیسے: وکالت اور مضاربت کے درمیان صاحبِ ہدایہؒ نے فرق بیان کیا ہے کہ: وکیل کے پاس رقم امانت ہوتی ہے، اگر ضائع ہوجائے گی تو ایک مرتبہ رجوع کا حق ہوگا، ہاں ! دوسرا قبضہ مضمون ہوگا جب کہ مضارب کے ہاتھ میں ’’رأس المال‘‘ امانت ہوتا ہے، جب جب وہ مال ہلاک ہوگا رب المال سے رجوع کا حق ہوگا، اور ہر وقت کا قبضہ امانت کا قبضہ شمار ہوگا۔ گویا مضاربت میں ضمان نہیں آئے گا (یعنی عقدِ مضاربت اور ضمان میں تباین ہے)۔ اگر کہیں ضمان ڈالا جائے گا تو وہ عقد ِمضاربت باقی نہ رہے گا۔ جب کہ وکالت میں ضمان آئے گا (دونوں میں تباین نہیں ہے)؛اب عدمِ تباین کی شکل میں (چاہے تساوی ہو یاعموم مطلق یا عموم من وجہ) کسی ایک ’’مادۂ اجتماع‘‘ کا ہونا ضروری ہے جہاں وکالت بھی ہو اور ضمان بھی، صاحبِ ہدایہؒ نے اِس کو واضح کیا: ’’لأنَّ الوَکالۃَ تُجامعُ الضَّمانَ إِذا تَوَکَّلَ (قَبِل الوکالۃ) بِبیْعِ المَغصوْبِ‘‘۔ (ہدایہ:۴؍۲۷۱)
اِسی طرح کہیں علت اور حکمت کے مابین فرق بیان کرنا، جیسے: بہ قول حضرت تھانویؒ: علت اورحکمت میں فرق یہ ہے کہ، (۱)علت وجود میں مقدم ہوتی ہے اور حکمت متأخر؛ پس اپنے زمانے میں دونوں موجود ہوسکتی ہیں (۲)علت کے ساتھ حکم وجوداً وعدماً دائر ہوتا ہے؛ لیکن حکمت کے ساتھ دائر نہیں ہوتا، یعنی حکمت کی تبدیل سے حکم نہیں بدلتا، اور اِس کا فرق سمجھنا راسخین فی العلم کا کام ہے۔ (تحفۃ العلما۲؍۲۰۵، بحوالہ: امداد الفتاویٰ)
اِس کی مثال: جیسے صاحبِ ہدایہؒ نے ’’کتاب الوکالۃ‘‘ میں فرمایا ہے:
م:کلُّ عقدٍ جازَ أنْ یَعقدَہ الانسانُ بنفسِہ جازَ أنْ یُوکلَ بہ غیرَہ ((حالتِ عجز وعدمِ عجز میں وکالت کا جواز ثابت کرنا یہ مدعیٰ ہے))؛ لأنّ الانسانَ قد یعجزُ عن المُباشرۃِ بنفسِہ عَلَی اِعتبارِ بَعضِ الاحوالِ، فیَحتاجُ إلی أنْ یُوکلَ بہِ غیرَہ،((یہ دلیل یعنی علت نہیں ہے؛ بلکہ جوازِ وکالت کی ایک حکمت ہے جو حالتِ عجز کے ساتھ خاص ہے))۔
اِس عبارت پر محشی فرماتے ہے:اعترضَ علیہِ بأنہٗ دلیلٌ أخصُّ من المَدلولِ، وھوَ جوازُ الوَکالۃ، فإنھَا جائزۃٌ وإنْ لمْ یکنْ ثمَّہ عجزٌ أصلاً؟ أجیبَ بأنَّ ذلکَ ((بیانُ حکمۃِ الحکمِ)) وھيَ تُراعَی في الجنسِ لا في الأفرادِ، کالمَشقۃِ في السَّفرِ۔ (ہدایہ۳؍۱۷۷)
(۲) جیسے: شرح ابن عقیل میں صاحبِ الفیہ نے مادام کی خبر کو مادام پر مقدم کرنے کے بابت فرمایا ہے:
وکلٌّ سبقَہ دامَ حظَر: یعنی تمام عرب یا تمام نحات نے دام کی خبر کو دام (مادام) پر مقدم کرنا منع کیا ہے۔ اِس مصرع کی شرح میں صاحبِ الفیہ کے صاحب زادے نے فرمایاہے: کہ دام کی خبر کو دام پر مقدم کرنا منع ہے، جیسے: غ