Deobandi Books

انوار المطالع فی ھدایات المطالع

114 - 214
نیز قِسمت(تقسیم) کو پھیلانے اور اُن تمام کے لیے ایک جامع مانع تعریف نکالنے کا طریقہ بیان کرے۔(۱)
	تاسع: قواعدِ کلیہ کو بیان کرنا، اور قیدوں (۲) کے فوائد بتانا، اور تقسم کا پھیلانا، نیز وہاں سے اس قاعدے کے نکلنے کی وجہ جامع مانع طور پر بیان کرنا۔
	عاشر:  بیانِ صورتِ مسئلہ یعنی کتاب میں جو قانون بَطِییُٔ الفَہْمَ ہو اُسے خوب 
                                              
	(۱)جیسے ’’شرح ابن عقیل‘‘ میں اعراب بالحرکۃ کے بیان میں جمع مؤنث سالم کا اعراب بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: 
ومَا بِتاوالفٍ قدْ جُمِعَا


یُکسَر فيْ الجرِّ وفيْ النصبِ مَعًا
ترجَمہ: اور وہ اسم جس کی جمع الف اور تاء (زائدتین) کے ذریعہ لائی گئی ہو، (اُس کا اعراب) حالتِ نصبی وجری میں کسرہ سے دیا جاتاہے، (اور حالت رفعی میں رفع برقرار رہے گا)۔
	شارح کی زبانی اِس کی تقریرملاحظہ فرمائیں :
	لما فرغَ من الکلامِ علی الذیْ تنوبُ فیہ الحروفُ عن الحرکاتِ، شرعَ في ذکرِ مَا نابتْ فیہِ حرکۃٌ عن حرکۃٍ، ((آئندہ کلام کو سابق سے مربوط کرنا)) وہو قسمان: جمعُ المؤنثِ السالمِ ((مصنف کی ذکر کردہ عبارت ’’وما بتا وألف قد جمع‘‘ اور جمع مؤنث سالم دونوں ایک ہی چیز ہے)) نحوَ مسلمات،… والاسم الذی لاینصرف نحو: أحمد۔
	وقیدنا ((فوائد قیود))بالسالم، احترازاً عن جمعِ التکثیرِ، وھوَ ما لمْ یسلمْ فیہ بنائُ الواحدِ، نحوُ: ھنود؛ وأشارَ إلیہِ المصنف بقولہِ: ومابتاء والفٍ قد جُمع، أي جُمع بالالف والتاء المزیدتین ((باء حرف جر کے متعلق کو واضح کرتے ہوئے بتایاکہ یہ باء سببیہ ہے))، فخرجَ نحوُ قضاۃٍ، فإنّ ألفہ غیرُ زائدۃٍ؛ بل ھيَ منقلبۃٌ عن أصلٍ وھوَ الیائُ؛ لأنَّ أصلَہ قُضَیَۃٌ، ونحوُ ابیاتٍ، فإنّ تائَہ أصلیۃٌ۔
	والمرادُ ((کلمۂ ابرازوبیان صورت مسئلہ)) ماکانتْ الالفُ والتائُ سبباً فيْ دلالتہِ علی الجَمع، نحوُ: ھنداتٍ، فاحترزَ بذلکَ عنْ نحوِ: قُضاۃٍ وأبیاتٍ،((مصنف پر ہونے والے نقض کو دُور کررہے ہیں )) فإنّ کلَّ واحدٍ منہما جمعٌ متلبسٌ بالالفِ والتائِ، ولیسَ مما نحنُ فیہِ؛لانَّ دلالۃَ کلِّ واحدٍ منھما علی الجَمع لیسَ بالالفِ والتائِ، وإنَّما ھو بالصیغۃ ((مصنف کی عبارت سے جامع مانع تعریف نکالی))، فاندفع بھذا التقریر الاعتراضَ علی المصنفِ بمثلِ قضاۃ وأبیات، وعُلِمَ((نکات مصنف)) أنہ لاحاجۃَ إلی أن یقولَ بألف وتاء مَزیدتینِ((گویا یہ قید مصنف کے منظورِ نظر تھی))، فالبائُ فی قولہ’’بتاء‘‘متعلقۃ بقولہ جُمِعَ۔ (شرح ابن عقیل:۶۸)
	(۲)القَیدُ أو التَّکمِلَۃُ: ہو في النَّحوِ کلُّ مَا في الجملۃِ عَدَا المُسندِ والمسندِ الیہِ۔ (موسوعہ: ۵۳۴)
	نحو میں مسند اور مسند الیہ کے علاوہ جملے کے بقیہ اجزاء کو قیودات سے تعبیر کرتے ہیں ۔ مرتب


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 أنْوَارُ المَطَالِعْ 1 1
3 جملہ حقوق بحقِ ناشر محفوظ ہیں 2 2
4 مطالعۂ کتب کے راہ نُما اصول 3 2
5 فہرست مضامین 5 2
6 کلمات توثیق ودعا 15 2
7 تقریظ حضرت الاستاذ مولانا قاری عبدالستار صاحب (استاذ حدیث وقراء ت دارالعلوم وڈالی) 17 2
8 مقدمہ 19 2
9 کام کی نوعیت اور کتاب میں رعایت کردہ اُمور 21 8
10 ایک نظر یہاں بھی 22 8
11 مصنف کا مختصر تعارف 22 8
12 مصنفؒ کی دیگر تصانیف 23 8
13 وقت باری تعالیٰ کا ایک قیمتی تحفہ 24 8
14 نظام الاوقات 25 8
15 احتساب 25 8
16 کیا آپ بھی کچھ بننا چاہتے ہیں ؟ 26 8
17 طالب کا کردار، اقوالِ اکابر کی روشنی میں 28 8
18 عُلما، طلبا اور حُفاظ کی فضیلت 29 8
19 حفظِ متون 39 8
20 ملکۂ تحریر پیدا کرنے کا نسخہ 39 8
21 فوائد ثمینہ 39 8
22 پیش لفظ(از مؤلف) 43 2
24 القِسْمُ الأوّلُ في مُطالَعۃِ المُبتدِئیْنَ 47 1
25 معرب،مبنی 52 24
26 منصرف،غیر منصرف 52 24
27 معرفہ، نکرہ 56 24
28 مذکر، مؤنث 57 24
29 واحد، تثنیہ، جمع 59 24
30 [اعرابِ اسمائے متمکنہ] 61 24
31 عَناوین کے اعراب کی تعیین 63 24
32 ابتدائِ کلام میں واقع ہونے والے اسماء 65 24
33 درمیانی کلام میں واقع ہونے والا اسم اور اس کامابعد 66 24
34 تابع، متبوع کی تعیین 70 24
35 متعلقاتِ جملہ فعلیہ 74 24
36 تعیین اجزائِ جملہ فعلیہ 77 24
37 اجزاء جملہ فعلیہ واسمیہ کی شناخت 80 24
38 دو فعل ایک جگہ جمع ہوں 81 24
39 حروفِ معانی 82 24
40 قوانینِ مُہِمہْ 88 24
41 فوائد مختلفہ مہِمَّہ 90 24
42 کلماتِ ذو وجہین 90 24
43 مطالعۂ کتب کے بنیادی اصول 95 24
44 لغت دیکھنے کا طریقہ 96 24
45 القسمُ الثاني في مُطالعۃِ المتوسطِین 99 1
46 بسملہ و حمدلہ 101 45
47 تصلیہ: (صلاۃ علی النبي) 101 45
48 بوقت ابتدائے کتاب اسالیبِِ مصنفین 102 45
49 متن اور طرزِِ تحریر 106 45
50 شرح کی احتیاج اور اس کے دواعی 107 45
51 بہ وقتِ شرح رعایت کردہ اُمور 112 45
52 وہ امور جن کی بہ وقتِ شرح رعایت کی جاتی ہے 112 45
53 متن وشرح میں بہ غرضِ مخصوص مستعمل الفاظ 125 1
54 ماتن کی متانت 127 53
55 ماتن کا لفظِ ’’إعْلمْ‘‘اور اغراضِ ثلاثہ 130 53
56 شارح کی سخاوت 135 53
57 اسالیبِ شرح 135 53
58 فرائضِ شارحین 136 53
59 الفاظِ دفعِ وہم و اعتراض 138 53
60 مطالعۂ کتبِ عربیہ میں مُعِین ۳۸؍ ضروری قواعد وضوابط 143 53
61 وہ ضمائر جن کے مراجع بظاہر مذکور نہیں ہوتے 145 53
62 وجہِ تسمیہ، وجہِ عدول اور کلمۂ اِنَّمَا 147 53
63 شراح کا دلچسپ انداز استدلال اورکلماتِ جواب ودلیل 149 53
64 شرَّاح کا لفظِ ’’اِعلم‘‘ اور مقاصدِ اربعہ 158 53
65 طریقۂ استدلال اور مخالِفین پر رد 159 53
66 دورانِ شرح غیر کا قول نقل کرنے کی اَغراض 159 53
67 اجوبۂ مختلفہ اور اُن کی حیثیات 170 53
68 لفظِ ’’اَیْ‘‘ کا فلسفہ 174 53
69 فائدۂ نافعہ 182 53
70 شارحین کے مخصوص کلماتِ تعریض وکنایہ 184 53
71 عطف کا معیار، واؤ کی تعیین 188 53
72 خاتمۂ کتاب 193 1
73 مختصراً علم کی فضیلت 195 72
74 علوم وفنون کی اہمیت اور اُن میں آپسی ربط 196 72
75 علم المطالعہ کی اہمیت 197 72
77 ایک سچا طالبِ علم اور اُس کے صفات 198 72
78 آداب طالبِ علم 199 72
79 ایک کامیاب طالبِ علم 201 72
80 طریقۂ مطالعہ 203 72
81 ترقیم کے چند قواعد ورموز 207 72
82 رموز اوقاف 207 72
83 یومیہ محاسبہ 209 72
84 رموزِ عددی وکلماتِ مخففہ 210 72
85 کتاب کی فریاد اپنے حامِلین سے 211 72
86 اہم مآخذ ومراجع 212 72
Flag Counter