نیز قِسمت(تقسیم) کو پھیلانے اور اُن تمام کے لیے ایک جامع مانع تعریف نکالنے کا طریقہ بیان کرے۔(۱)
تاسع: قواعدِ کلیہ کو بیان کرنا، اور قیدوں (۲) کے فوائد بتانا، اور تقسم کا پھیلانا، نیز وہاں سے اس قاعدے کے نکلنے کی وجہ جامع مانع طور پر بیان کرنا۔
عاشر: بیانِ صورتِ مسئلہ یعنی کتاب میں جو قانون بَطِییُٔ الفَہْمَ ہو اُسے خوب
(۱)جیسے ’’شرح ابن عقیل‘‘ میں اعراب بالحرکۃ کے بیان میں جمع مؤنث سالم کا اعراب بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
ومَا بِتاوالفٍ قدْ جُمِعَا
یُکسَر فيْ الجرِّ وفيْ النصبِ مَعًا
ترجَمہ: اور وہ اسم جس کی جمع الف اور تاء (زائدتین) کے ذریعہ لائی گئی ہو، (اُس کا اعراب) حالتِ نصبی وجری میں کسرہ سے دیا جاتاہے، (اور حالت رفعی میں رفع برقرار رہے گا)۔
شارح کی زبانی اِس کی تقریرملاحظہ فرمائیں :
لما فرغَ من الکلامِ علی الذیْ تنوبُ فیہ الحروفُ عن الحرکاتِ، شرعَ في ذکرِ مَا نابتْ فیہِ حرکۃٌ عن حرکۃٍ، ((آئندہ کلام کو سابق سے مربوط کرنا)) وہو قسمان: جمعُ المؤنثِ السالمِ ((مصنف کی ذکر کردہ عبارت ’’وما بتا وألف قد جمع‘‘ اور جمع مؤنث سالم دونوں ایک ہی چیز ہے)) نحوَ مسلمات،… والاسم الذی لاینصرف نحو: أحمد۔
وقیدنا ((فوائد قیود))بالسالم، احترازاً عن جمعِ التکثیرِ، وھوَ ما لمْ یسلمْ فیہ بنائُ الواحدِ، نحوُ: ھنود؛ وأشارَ إلیہِ المصنف بقولہِ: ومابتاء والفٍ قد جُمع، أي جُمع بالالف والتاء المزیدتین ((باء حرف جر کے متعلق کو واضح کرتے ہوئے بتایاکہ یہ باء سببیہ ہے))، فخرجَ نحوُ قضاۃٍ، فإنّ ألفہ غیرُ زائدۃٍ؛ بل ھيَ منقلبۃٌ عن أصلٍ وھوَ الیائُ؛ لأنَّ أصلَہ قُضَیَۃٌ، ونحوُ ابیاتٍ، فإنّ تائَہ أصلیۃٌ۔
والمرادُ ((کلمۂ ابرازوبیان صورت مسئلہ)) ماکانتْ الالفُ والتائُ سبباً فيْ دلالتہِ علی الجَمع، نحوُ: ھنداتٍ، فاحترزَ بذلکَ عنْ نحوِ: قُضاۃٍ وأبیاتٍ،((مصنف پر ہونے والے نقض کو دُور کررہے ہیں )) فإنّ کلَّ واحدٍ منہما جمعٌ متلبسٌ بالالفِ والتائِ، ولیسَ مما نحنُ فیہِ؛لانَّ دلالۃَ کلِّ واحدٍ منھما علی الجَمع لیسَ بالالفِ والتائِ، وإنَّما ھو بالصیغۃ ((مصنف کی عبارت سے جامع مانع تعریف نکالی))، فاندفع بھذا التقریر الاعتراضَ علی المصنفِ بمثلِ قضاۃ وأبیات، وعُلِمَ((نکات مصنف)) أنہ لاحاجۃَ إلی أن یقولَ بألف وتاء مَزیدتینِ((گویا یہ قید مصنف کے منظورِ نظر تھی))، فالبائُ فی قولہ’’بتاء‘‘متعلقۃ بقولہ جُمِعَ۔ (شرح ابن عقیل:۶۸)
(۲)القَیدُ أو التَّکمِلَۃُ: ہو في النَّحوِ کلُّ مَا في الجملۃِ عَدَا المُسندِ والمسندِ الیہِ۔ (موسوعہ: ۵۳۴)
نحو میں مسند اور مسند الیہ کے علاوہ جملے کے بقیہ اجزاء کو قیودات سے تعبیر کرتے ہیں ۔ مرتب